ہی صبر کر کے بیٹھ جاتے ہیں اور سب کچھ بھول جاتے ہیں ۔ ایک عورت کا ذکر ہے کہ اس کا بچہ مر گیا تھا ور وہ قبر پر کھڑی سیاپا کر رہی تھی ۔ آنحضرت ﷺ وہاں سے گذرے تو آپ نے اُسے فرمایا تو خدا تعالیٰ سے ڈر اور صبر کر ۔اس کمبخت نے جواب دیا کہ تو جا تجھ پر جیسی مصیبت نہیں پڑی ۔ بد بخت نہیں جانتی تھی کہ آپ تو گیارہ بچوں کے فوت ہونے پر بھی صبر کرنے والے ہیں ۔ جب اس کو بعد میں معلوم ہوا کہ اس کو نصیحت کرنے والے خود آنحضرت ﷺ تھے تو پھر آپ کے گھر میں آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ میں صبر کرتی ہوں ۔آپ نے فرمایا کہ الصَّبرُ عندَ الصَّدمَۃِ الاُولٰی صبر وہ ہے جو پہلے ہی مصیبت پر کیا جائے ۔ غرض بعد میں خود وقت گذرنے پر رفتہ رفتہ صبر کرنا ہی پڑتا ہے صبر وہ ہے جو ابتداء ہی میں انسان اللہ تعالیٰ کی خا طر کرے ۔ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیتا ہے ۔ یہ بے حساب اجر کا وعدہ صبر کرنے والوں کے سا تھ ہی مقدر ہے ۔
دعا اور استغفار میں مصروف رہو
کسی کو کیا خبر ہے کہ آج کیا ہے اور کل کیا ہونے والا ہے ۔ابھی ہمارے پاس کئی خط راولپنڈی سے آئے ہیں جن میں لکھا ہے کہ ایک زلزلہ آیا کہ لوگ چیخ اُٹھے بلکہ بعض نے کہا کہ یہ زلزلہ ۴اپریل والے زلزلہ کے برابر تھا دیکھو اس ایک مہینہ میں تین بار زلزلہ آچکا ہے اور آگے ایک سخت زلزلہ کے آنے کی خبر خدا تعالیٰ دے چکا ہے ۔وہ زلزلہ ایسا سخت ہو گا کہ لوگوں کو دیوانہ کر دے گا لوگوں نے غفلت کر کے خدا کو بھلا دیا ہے اور خوشی میں بیٹھے ہیں مگر جن لوگوں نے خدا کو پا لیا ہے وہ تلخ زندگی کو قبول کرنے کے واسطے تیار ہیں ۔مصائب کا آنا ضروری ہے ۔خدا کی سنت ٹل نہیں سکتی ۔ہر ایک کو چاہئیے کہ خدا سے دعا اور استغفار میں مصروف رہے اور خدا تعالیٰ کی رضا کے ساتھ اپنی رضا کو ملائے ۔جو شخص پہلے سے فیصلہ کر لیتا ہے ٹھوکر نہیں کھاتا مال اولاد بیوی بھائیوں سے پہلے ہی سمجھ لے کہ میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔ سب امانت خدا وند ی ہیں ۔ جب تک ہیں ان قدر عزت ۔خا طر خدمت کرو ۔جب خدا اپنی امانت کو واپس لے لے تو پھر رنج نہ کرو ۔
ہر امر میں خدا تعالیٰ کو مقدم رکھو
دین کی جڑاس میں ہے کہ ہر امر میں خدا تعالیٰ کو مقدم رکھو دراصل ہم نے خدا کے ہیں اور خدا ہمارا ہے اور کسی سے ہم کو کیا غرض ہے کہ ایک نہیں کروڑ اولاد مر جائے پر خدا راضی رہے تو کوئی غم کی بات نہیں ۔ اگر اولاد زندہ بھی رہے تو بغیر خدا کے فضل کے وہ بھی موجب ابتلاء ہو جاتی ہے ۔ بعض آدمی اولاد کی وجہ سے جیل خانوں میں جاتے ہیں شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے ایک شخص کا قصہ لکھا ہے کہ وہ اولاد کی شرارت کے سبب پایہ زنجیز تھا ۔ اولاد کو مہمان سمجھنا چاہئیے اس کی خاطر داری کرنی چاہئیے ۔اس کی دلجوئی کرنی چاہیے ۔مگر خدا تعالیٰ پر کسی کو مقدم نہیں کرنا چاہئے اولاد کیا بنا سکتی ہے خدا تعالیٰ کی رضا ضروری ہے
نماز میں وساوس پیدا ہونے کی وجہ
جن لوگوں کو خدا کی طرف پورا التفات نہیں ہوتا انہیں کو نماز میں بہت وساوس آتے ہیں ۔ دیکھو ایک قیدی جب کہ