مطلع نہ کرے تو کیا کرے؟ یہی حال حضرت نوحؑ کے زمانہ میں ہوا تھا۔ جبکہ حضرت نوحؑ کشتی بناتے تھے تو لوگ ہسنتے تھے اور ٹھٹھا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھو یہ کیسا دیوانہ ہے کہ خشکی پر شہر میں کشتی بناتاہے ۔ مگر وہ نہ جانتے تھے کہ وہ خود ہی غلطی پر ہیں اور حضرت نوحؑ کی کارروائی درست اور راست ہے۔ اسی طرح آج کل بھی گوامساکِ باراں ہے مگر قسم قسم کے طوفانوں اور زلازل سے دُنیا پر عذاب آنے والے ہیں۔ جیساکہ پہلے زمانوں کی تمام شرارتیں اور مفاسد آج کل جمع ہو گئے ہیں۔ ایسا ہی پہلے زمانوں میں جو عذاب اور بلائیں متفرق وقتوں میں وارد ہوا کرتی تھیں وہ سب کی سب اب اس زمانہ میں جمع ہوگئی ہیں۔ جس قدر قانون بڑھتا جاتاہے ساتھ ہی فریب اور دھوکہ بھی بڑھتا جاتاہے ۔ سرکار اس واسطے قانون بناتی ہے کہ ملک میں امن پھیلے ۔ شریر لوگ اسی قانون میں سے ایک ایسی بات نکالتے ہیں کہ ان کو اپنی شرارت کے پورا کرنے کا اور بھی موقعہ مل جائے ۔ اگر کوئی کسی کا قرضدار ہوتاہے تو اسی فکر میں رہتاہے کہ قرضہ کی معیاد گذر چکی ہے اور نہیں سوچتا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک کوئی معیاد نہیں۔ غیر مذہب والوں سے خوش خُلقی :۔ مذکورہ بالاہندو صاحب نے عرض کیا کہ مجھے تو لوگ ڈراتے تھے کہ مرزا صاحب تو کسی کے ساتھ بات نہیں کرتے اور ہندوئوں کے ساتھ بہت بدخلقی سے پیش آتے ہیں۔ میں نے یہ سب بات اس کے برخلاف پائی ہے اور آپ کو اعلیٰ درجہ کا خلیق اور مہمان نواز دیکھاہے۔ حضرت نے فرمایا:۔ لوگ جھوٹی خبریں اُڑا دیتے ہیں۔ ہمیں خدا تعالیٰ نے وسیع اخلاق سکھائے ہیں ۔ بلکہ ہمیں افسوس ہے کہ ہم پوری طرح سے آپ کے ساتھ اخلاقِ حسنہ کا اظہار نہیں کر سکتے کیونکہ آپ کی قومی رسم کے مطابق ہمارا کھانا کھالینا جائز نہیں۔ ایسے ہندو مہمانوں کے کھانے کے انتظام ہم کسی ہندو کے ہاں کر لیا کرتے ہیں۔ لیکن اس کھانے کی ہم خود نگرانی نہیں کر سکتے۔ ہمارے اصول میں داخل نہیں کہ اختلافِ مذہبی کے سبب کسی کیساتھ بدخلقی کریں اور بدخلقی مناسب بھی نہیں کیونکہ نہایت کار ہمارے نزدیک غیر مذہب والا ایک بیمار کی مانند ہے جس کو صحتِ روحانی حاصل نہیں ۔ پس بیمار تو اور بھی قابلِ رحم ہے جس کے ساتھ بہت خلق اور حلم اور نرمی کیساتھ پیش آنا چاہئے ۔ اگر بیمار کے ساتھ بدخلقی کی جاوے تو اس کی بیماری اور بھی بڑھ جائے گی۔ اگر کسی میں کجی اور غلطی ہے تو محبت کے ساتھ سمجھانا چاہیئے ۔ ہمارے بڑے اصول دو ہیں ۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق صاف رکھنا اور اس کے بندوں کے ساتھ ہمدردی اور اخلا ق سے پیش آنا ۔ (بدر جلد ۲نمبر ۲۹صفحہ ۳مورخہ ۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ئ؁)