مختصر زندگی ہے کوئی پچاس ساٹھ سال کی عمر میں مر گیا ۔کسی نے دس بارہ سال اور گذار لیے ۔ اس جگہ کی مصائب کا خاتمہ تو موت کے ساتھ ہو جا تا ہے مگر اُس عالم کا خاتمہ نہیں جب قیامت بر حق ہے اور وہ ایمان کا لازمہ ہے تو اس چند روز زندگی کی تکالیف کا برداشت کر لینا کیا مشکل ہے ۔ اس دائمی جہان کے واسطے کو شش کرن چاہئیے ۔جو شخص کوئی تکلیف بھی نہیں اُٹھاتا۔وہ کیا سر مایہ رکھتا ہے مومن کی نشانی یہ ہے کہ وہ صرف صبر کرنے والا نہ ہو بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ مصیبت پر راضی ہو ۔ خدا کی رضا کے سا تھ اپنی رضا ملا لے ۔ یہی مقام اعلیٰ ہے ۔ مصیبت کے وقت خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھنا چاہئے منعم کو نعمتوں پر مقدم رکوھ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ شکوہ شروع کرتے ہیں گویا خدا تعالیٰ کے ساتھ قطع تعلق کرتے ہیں ۔بعض عورتیں کو ستی ہیں اور گالیاں دیتی ہیں ۔بعض مرد بھی ایمانی حالت میں نا قص ہو تے ہیں ۔ یہ ایک ضروری نصیحت ہے اور اس کو یاد رکھو کہ اگر کوئی شخص مصیبت زدہ ہو تو اُسے ڈرنا چاہئئے کہ ایسا نہ ہو کہ اس سے بڑھ کر اس پر کوئی مصیبت گرے ۔کیونکہ دنیا دار المصائب ہے اور اس میں غافل ہو کر بیٹھنا اچھا نہیں اکثر مصائب متنبہ کرنے کے واسطے آتے ہیں ۔ ابتداء میں اس کی صورت خفیف ہو تی ہے ۔انسان اس کو مصیبت نہیں سمجھتا پھر وہ بیتاب کرنے والی مصیبت ہو جاتی ہے ۔ دیکھو اگر کسی کو آہستگی سے دبایا جائے تو اس کے بدن کو آرام پہنچتا ہے ۔ وہی ہاتھ زور سے مارا جائے تو موجب دکھ ہو جاتا ہے ۔ ایک مصیبت سخت ہو تی ہے ۔جو وبال جان بن جاتی ہے ۔ قرآن شریف میں ہر دو مصائب کا ذکر کر دیا ہے ۔
خدمت دین کو ایک فضل الہٰی جانو
مصائب رفع درجات کے واسطے ہو تے ہیں حضرت ابراہیم اس بات پر روتے دھوتے نہ رہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے بیٹا مانگا ہے بلکہ انہوں نے اس بات پر خدا تعالیٰ کا شکر کیا کہ ایک خدمت کا موقعہ ملا ہے ۔ لڑکے کی ماں نے بھی رضا مندی دی اور لڑکا بھی اس بات پر راضی ہوا ۔
ذکر ہے کہ ایک دفعہ ایک مسجد کا مینار گر گیا تو شاہ وقت نے سجدہ کیا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس خدمت میں سے حصہ لینے کا موقعہ دیا ہے جو بزرگ بادشاہوں نے اس مسجد کے بناء کرنے میں حا صل کی تھی ۔
صبر کا اجر
وقت تو بہر حال گذر جا تا ہے ۔ گوشت پلاؤ کھانے والے بھی آخر مر جاتے ہیں لیکن جو شخص تلخیاں دیکھ کر صبر کرتا ہے اس کو بالا ٓخر اجر ملتا ہے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کی اس بات پر شہادت ہے کہ صبر کا اجر ضرور ہے ۔
جو لوگ خدا تعالیٰ کی خا طر صبر نہیں کرتے ان کو بھی صبر کرنا ہی پڑتا ہے مگر پھر نہ وہ ثواب ہے اور نہ اجر کسی عزیز کے مرنے کے وقت عورتیں سیاپا کرتی ہیں ۔بعض نادان مرد سر پر راکھ ڈالتے ہیں ۔تھوڑے عرصہ کے بعد