بڑا انعام کو خدا تعالیٰ کی طرف ملا ۔ درحقیقت انسان کا تقویٰ تب محقق ہوتا ہے جب کہ اس پر کوئی مصیبت وارد ہو ۔ جب وہ تمام پہلو ترک کر کے خدا تعالیٰ کے پہلو کو مقدم کر لے اور آرام کی زندگی کو چھوڑ کر تلخ زندگی قبول کر لے تب انسان کو حقیقی تقویٰ حا صل ہوتا ہے ۔ انسان کی اندرونی حالت کی اصلاح نرمی رسمی نما زوں اور روزوں سے نہیں ہو سکتی بلکہ مصائب کا آنا ضروری ہے ۔
؎ عشق اول سر کش وخونی بود تا گریز د ہر کہ بیرونی بود
اول حملہ عشق کا شیر کی طرح سخت ہو تا ہے جس قدر انبیاء اور رسول اور صدیق گذرے ہیں اُن میں سے کسی نے معمولی امور سے ترقی نہیں پائی بلکہ ان کے مدارج کا راز اس بات میں تھا کہ انہوں نے خدا تعالے کے ساتھ موافقت نامہ کی ۔مومن کی سا ری اولاد ذبح کر دی جائے اور اس کے سوائے بھی اس پر تکالیف پڑیں تب بھی وہ بہر حال قدم آگے بڑھاتا ہے ۔
دیکھو انسان با وجود ہزاروں کمزوریوں کے اپنے سچے دوست کے ساتھ وفا داری کرتا ہے ۔ تو کیا خدا جو رحمان اور رحیم سے وہ تمہارے ساتھ وفا داری نہ کرے گا ۔خدا تعالیٰ سے ایسا پیار کرو کہ اگر ہزار بچہ ایک طرف ہو اور خدا ایک طرف تو خدا کی طرف اخیتار کرو او ربچوں کی پروا نہ کر و مصائب تمام انبیا پر وارد ہو تے رہے ہیں ۔ کوئی اُن سے خالی نہیں رہا اسی واسطے مصائب کے برداشت کرنیوالے کے لئے بڑے بڑے اجر ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور اپنے رسول کو خطاب کیا ہے کہ صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو جو مصیبت کے وقت کہتے ہیں کہ ایک وقت تھا کہ ہمارا کوئی وجو ہی نہ تھا ۔ خدا تعالیٰ نے ہم کو پیدا کیا اور اس کی ہم امانت ہیں اور اسی کے پاس جانا ہے ۔ ایسے لوگوں کے واسطے بشارت ہے ۔ ان مصائب کے ذریعہ سے جو برکات حا صل ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جو خا ص بشارت ملتی ہے وہ نماز روز زکوۃ سے حا صل نہیں ہو سکتی ۔نما ز کما حقہ ادا ہو جاوے تو بہت عمدہ شئے ہے مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے جو نشاط لگتا ہے ۔وہ سب سے زیادہ ٹھیک بیٹھتا ہے اور اسی سے ہدایت اور رستگاری حا صل ہو تی ہے ۔
جماعت کو تکالیف برداشت کرنے کی تلقین
اب اہل جماعت غور سے سنیںاور اس بات کو سمجھیں کہ دونوں قسم کی تکالیف خدا تعالیٰ نے تمہارے واسطے رکھی ہیں ۔ اول تکالیف شرعی ہیں ان کی برداشت کرو۔دوسری تکالیف قضا ء قدر کی ہیں ۔ اکثر انسان شرعی تکالیف کو کسی نہ کسی طرح ٹال دیتے ہیں اور ان کو پورے طور سے ادا نہیں کر تے ۔مگر قضا وقدر سے کون بھاگ سکتا ہے ۔ اس میں انسان کا اخیتار نہیں ۔
یاد رکھو ۔ انسان کے واسطے یہی ایک عالم نہیں بلکہ اس کے بعد ایک اور عالم ہے ۔یہ تو ایک بہت ہی