کہ آپ دعا کریں کہ میری اولاد ہو ۔ اولاد کا فتنہ ایسا سخت ہے کہ بعض نادان اولاد کے مر جانے کے سبب دہر یہ ہو جاتے ہیں ۔ بعض جگہ اولاد انسان کو ایسی عزیز ہو تی ہے کہ وہ اس کے واسطے خدا تعالیٰ کا شریک بن جاتی ہے بعض لوگ اولاد کے سبب سے دہریہ ملحداور بے ایمان بن جاتے ہیں ۔ بعضوں کے بیٹے عیسائی بن جاتے ہیں تو وہ بھی اولاد کی خا طر عیسائی ہو جاتے ہیں ۔ بعض بچے چھوٹی عمر میں مر جاتے ہیں تو وہ ماں باپ کے واسطے سلب ایمان کا موجب ہو جاتے ہیں ۔ صدمہ کے مطابق اجر ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ ظالم نہیں ۔جب کسی پر صدمہ سخت ہو ا اور وہ صبر کرے تو جتنا صدمہ ہوا اتنا ہی اس کا اجر بھی زیادہ ہو تا ہے ۔خد ا تعالیٰ رحیم غفور اور ستار ہے ۔ وہ انسان کو اس واسطے تکلیف نہیں پہنچاتا کہ وہ تکلیف اُٹھا کر دین سے الگ ہو جائے بلکہ تکالیف اس واسطے آتی ہیں کہ انسان آگے قدم بڑھائے ۔صوفیا ء کا قول ہے کہ ابتلا ء کے وقت فا سق آدمی قدم پیچھے ہٹاتا ہے لیکن صالح آدمی اور بھی قدم آگے بڑھاتا ہے ۔ انبیاء اور رُسل کے ابتلا ء اور امتحانات ایک روایت میں لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے گیارہ لڑکے فوت ہو ئے تھے ۔ انبیاء رسل کو جو بڑے بڑے مقام ملتے ہیں وہ ایسی معمولی باتوں سے نہیں مل جاتے جو نرمی سے اور آسانی سے پوری ہو جائیں بلکہ ان پر بھاری ابتلاء اور امتحان وارد ہوئے جن میں وہ صبر اور استقلال کے ساتھ کامیاب ہوئے تب خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کو بڑے بڑے درجات نصیب ہوئے ۔ دیکھو حضرت ابراہیم پر کیسا بڑا ابتلا ء آیا ۔ اس نے اپنے ہاتھ میں چھری لی کہ اپنے بیٹے ک وذبح کر ے اور اس چھری کو اپنے بیٹے کی گردان پر اپنی طرف سے پھیر دیا مگر آگے بکرا تھا ۔ابراہیم امتحان میں پاس ہوا ۔اور خدا تعالیٰ نے بیٹے کو بھی بچا لیا۔تب خدا تعالیٰ ابراہیم پر خوش ہوا کہ اُس نے اپنی طرف سے کوئی فرق نہ رکھا ۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل تھا کہ بیٹا بچ گیا ورنہ ابراہیم نے اس کو ذبح کر دیا تھا ۔ اس واسطے اس کو صادق کا خطاب ملا ۔ اور توریت میں لکھا ہے کہ خد ا تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابراہیم تو آسمان کے ستاروں کی طرف نظر کر کیا تو ان کو گن سکتا ہے۔اسی طرح تیری اولاد بھی نہ گنی جائے گی ۔ تھوڑے سے وقت کی تکلیف تھی وہ تو گذر گئی ۔ اس کے نیتجہ میں کس قدر انعام ملا ۔ آج تمام سا دات اور قریش اور یہود اور دیگر اقوام اپنے آپ کو ابراہیم کا فرزند کہتے ہیں ۔۱؎ گھڑی دو گھڑی کی بات تھی وہ تو ختم ہو گئی اور اتنا