تلاش کر لیتا ہے ۔ جاڑے کے موسم میں وضو کے واسطے پانی گرم کر لیتا ہے ۔ جب سبب علالت کھڑا ہو کر نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر پڑھ لیتا ہے ۔ رمضان میں سحری میں اُٹھ کر خوب کھانا کھا لیتا ہے بلکہ بعض لوگ ماہ صیام میں معمولی سے بھی زیا دہ خرچ کھانے پینے پر کر لتیے ہیں ۔غرض ان تکا لیف شرعیہ میں کچھ آرام کی صورت ساتھ ساتھ انسان نکالتا رہتا ہے۔اس واسطے اس سے پورے طور پر صفائی نہیں ہوتی اور منا زل سلوک جلدی سے طے نہیں ہو سکتے ۔ تکالیف سماوی لیکن تکالیف سماوی جو آسمان سے اُترتی ہیں اُن میں انسان کا اخیتار نہیں ہوتا اور بہر حال برادشت کرنی پڑتی ہیں ۔ا س واسطے ان کا ذریعہ سے انسان کو خدا تعالیٰ کا قرب حا صل ہوتا ہے ۔ ہر دو قسم کی تکلیف شرعی اور سماوی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں کیا ہے ۔ ( ۱) تکالیف شرعی کے متعلق پہلے سیپاروہ میں فرما ہے ۔ الٓمٓ۔ ذٰلِکَ الکِتَاب لَا رَیبَ فیہِ ھُدًی لَّلمُتَّقینَ (البقرۃ:۲۔۳) یعنی مومن وہ ہے جو خدا تعالیٰ پر غیب سے ایما لاتے ہیں ۔اپنی نما ز کو کھڑا کرتے ہیں یعنی صدہا ساوس آکر دل کو اور طرف پھیر دتیے ہیں ۔مگر وہ بار بار خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کر کے اپنی نماز کو جو بہ سبب وساوس کے گرتی رہتی ہے بار بار کھڑا کرتے رہتے ہیں خدا تعالیٰ کے دئیے ہوئے مال میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ یہ تکالیف شرعیہ ہیں ۔مگر ان پر پورے طور پر سے بھروسہ حصول ثواب کا نہیں ہو سکتا کیونکہ بہت سی باتوں میں انسان غفلت کرتا ہے اکثر نماز کی حقیقت اور مغز سے بے خبر ہو کر صر ف پوست کو ادا کرتے ہیں ۔ ( ۲) اس واسطے انسانی مدارج کی ترقی کے واسطے سماوی تکالیف بھی رکھی گئی ہیں ان کا ذکر بھی خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں کیا ہے ۔ جہاں فرما یا ہے ۔ وَلَنَبلُو نَّکُم بشَئی مِّنَ الخوفِ والجُوع وَنَقصِِ مّن الاَموَالِ وَ الاَ نفُس وَالثَّمرَاتِ وَبَشرِّ الصّابرِین الَّذینَ اذَٓ ا آصَآبتھُم مُّصیبَۃٌ قَالُوٓ اِنَّا للّٰہِ وَ اِنَّا اِلیہِ رَاجعُونَ ۔ اُولٓئِکَ عَلَیھم صَلَوَاتٌ مّن رَّبھم وَرَحمۃٌ وَاُولئکَ ھُمُ المُھتَدُونَ ( البقرۃ : ۱۵۶تا ۱۵۸) یہ وہ مصائب ہیں جو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے ڈالتا ہے یہ ایک آزمائش ہے جس میں کبھی تو انسان پر ایک بھارے درجہ کا ڈر لاحق ہو تا ہے ۔وہ ہر وقت اس خوف میں ہوتا ہے کہ شاید اب معاملہ بالکل بگڑ جائے ۔کبھی فقروفاقہ شامل حال ہو جاتا ہے ۔ ہر ایک امر میں انسان کا گذارہ بہت تنگی سے ہونے لگتا ہے کبھی مال میں نقصان نمودار ہو تا ہے ۔ تجارت اور دکانداری بگڑ جاتی ہے یا چور لے جاتے ہیں ۔ کبھی ثمرات میں نقصان ہو تا ہے یعنی پھل خراب ہو جاتے ہیں ۔کھیتی ضا ئع ہو جاتی ہے اور یا اولاد عزیز مر جاتی ہے محا ورہ عرب میں اولاد کو بھی ثمر کہتے ہیں ۔ اولاد کا فتنہ بھی بہت سخت ہو تا ہے اکثر لو گ مجھے گھبرا کر خط لکھتے رہتے ہیں