زلزلے ہیں ۔ جب ایسی مصبتیں وارد ہوتی ہیں تو دنیا داروں کی عقل جاتی رہتی ہے اور وہ ایک سخت غم اور مصیبت میں گرفتا ر ہو جاتے ہیں جس سے نکلنے کا کوئی طریق ان کو نہیں سوجھتا ۔قرآن شریف میں اسی کی طرف اشارہ ہے وَتَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَا ھُم بسُکٰری۔ تو لوگوں کو دیکھتاہے کہ نشے میں ہیں حالانکہ وہ کسی نشے میں نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ نہایت درجہ کے غم اور خوف سے ان کی عقل ماری گئی ہے اور کچھ حوصلہ باقی نہیں رہا ایسے موقعہ پر بجز متقی کے کسی کے اندر صبر کی طا قت نہیں رہتی ۔دینی امور میں بجز تقویٰ کے کسی کو صبر حا صل نہیں ہو سکتا ۔ بلا کے آنے کے وقت سوائے اس کے کون صبر کر سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کی رضا کے سا تھ اپنی رضا کو ملائے ہوئے ہو جب تک کہ پہلے ایمان پختہ نہ ہو ۔ ادنیٰ نقصان سے انسان ٹھوکر کھا کر دہریہ بن جاتا ہے جس کو خدا تعالیٰ کے سا تھ تعلق نہیں اس میں مصیبت کی برداشت نہیں ۔
مصائب کا آنا ضروری ہے
دنیا دار لوگ تو ایسے مصائب کے وقت وجو د باری تعالیٰ کا بھی انکار کر بیٹھتے ہیں ۔دنیا کی وضع ہی ایسی بنی ہے کہ اس میں مصائب کا آنا ضروری ہے ۔ دنیا میں جس قدر آدمی گذرے ہیں ان میں سے کون دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس پر کبھی کوئی مصیبت وارد نہیں ہوئی ۔کسی کی مصیبت اولاد پر وارد ہو تی ہے اور کسی کے مال پر اور کسی کی عزت پر غرض ہر ایک کو کوئی نہ کوئی مصیبت اور ابتلا ء دیکھنا ہی پڑتا ہے ۔بغیر اس کے دنیا میں چارہ نہیں ۔ یہ دنیا کا لازمہ ہے ۔ عرب کا ایک پرانا شاعر لکھتا ہے ۔ ؎؎
سَئمتُ تَکَا لِیفَ الحَیَا ۃِ وَمَن یَّعش
ثَمَا نینَ حَولاً لاَ اَبَالَکَ یَسئمِ
دنیا میں میں نے بڑی بڑی تکلیفیں دیکھی ہیں اور جو کوئی میری طرح اسی سال تک جئے گا وہ بھی لا محالہ کچھ دیکھے گا ۔
دنیا کے مصائب تو دراصل چند روز کے واسطے ہیں ۔ کوئی جلدی مرا اور کوئی دیر سے مرا آخر سب نے مرنا ہے ۔
تکالیف شرعیہ
دین کی راہ میں دو قسم کی تکلیفیں ہیں ۔ ایک تکالیف شرعیہ جیسا کہ نماز ہے اور روزہ ہے اور حج ہے اور زکوٰۃ ہے ۔ نماز کے واسطے انسان اپنے کاروبار کو ترک کر تا ہے اور ان کا ہر ج بھی کر کے مسجد میں جاتا ہے سردی کے موسم میں پچھلی رات اُٹھتا ہے ۔ماہ رمضان میں دن بھر کی بھوک اور پیاس برداشت کرتا ہے ۔ حج میں سفر کی صعوبتیں اُٹھاتا ہ زکوۃ میں اپنی محنت کی کمائی دوسروں کے سپر د کر دیتا ہے ۔ے سب تکا لیف شرعیہ ہیں ۔اور انسان کے واسطے موجب ثواب ہیں۔اس کا قدم خدا کی طرف بڑھاتی ہیں ۔لیکن ان سب میں انسان کو ایک وسعت دی گئی ہے اور وہ اپنے آرام کی راہ