یاد رکھو خدا تعالی اگرچہ سزادینے میں دھیماکہ ہے مگر جو لوگ اپنی شرارتوں سے باز نییں آتے اور بجائے اس کے کہ اپنے گناہوں کا اقرار کر کے خدا تعالیٰ کے حضور جھک جائیں اُلٹے خدا تعالیٰ کے رسول کو ستانے اور دکھ دیتے ہیں وہ آخر پکڑے جا تے ہیں اور ضرور پکڑے جا تے ہیں دیکھو ۔ دن نہایت نازک آتے جاتے ہیں ۔ا س لئے تم لوگوں کو چاہئیے کہ خدا تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کرو اور تضرع اور ابتہال کے سا تھ دن رات اس سے دعائیں مانگتے رہو ۔ خدا تعالیٰ تمہیں توفیق دے ۔اب دعا کر لو ۔ اس کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام نے بمعہ سامعین نہایت خلوص کے سا تھ دعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے اور خدا تعالیٰ سے دائیں مانگیں ۔ رَنَّنَآ انَّنا سَمعنَا دِیَا یُّنا دی للا سمَانِ آن اٰمنُوا برَبکُم فَّا مَنَّا رَبَّنَا فَا غفرلَناَ ذُنُوبَنَا وَکَفر عَنَّا سَیّاٰ تنَا مَعَ الآبرَارِ ۔ رَبَّنا وَاٰتنَا مَا وَ عَد تَّنَا عَلیٰ رسُلِک وَلَا تُخزِنَا یَومَ القیمۃِ ۔اِنَّکَ لَا تُخلفُ المیعَادَ ( ال عمران ۱۹۴۔ تا ۱۹۵ ) ۲۸ دسمبر ۱۹۰۷؁ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی دوسری تقریر جو آپ نے جلسہ سالانہ کے موقع پر ۲۸ دسمبر ۱۹۰۷؁ء کو یوم شنبہ کے بعد جمع نماز ظہر وعصر مسجد اقصیٰ میں فرمائی جو کچھ کل میں نے تقریر کی تھی اس کا کچھ حصہ باقی رہا گیا تھا ۔ کیونکہ بسبب علالت طبع تقریر ختم نہ ہو سکی ۔ اس واسطے آج پھر میں تقریر کرتا ہوں ۔زندگی کا کچھ اعتبار نہیں ۔ جس قدر لوگ آج اس جگہ موجود ہیں معلوم نہیں ان میں سے کون سا ل آئند ہ تک زندہ رہے گا اور کون مرجائے گا ۔ یہ زمانہ نازک ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر طرح سے لوگوں کو سمجھا دیں کہ یہ زمانہ بہت نا زک ہے خدا تعالیٰ نے اس قدر بار بار مجھے آئندہ اور بھی خطر ناک زمانہ کے آنے کے متعلق وحی کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت قریب ہے اور وہ جلد آنے والی ہے جیسا کہ کل بیان کیا گیا تھا ۔طرح طرح کے لباسوں میں موتوں وارد ہو رہی ہیں ۔ طاعون ہے وبائیں ہیں قحطہ ہے ۔