کے مکان پر چلے گئے اور آنحضرت ﷺ کو مخا طب کر کے کہنے لگے کہ آپ گواہ رہیں کہ سب سے پہلے آپ ایمان لانے والا میں ہوں ۔ دیکھو انہوں نے آنحضرت ﷺ سے کوئی معجزہ نہیں مانگا تھا ۔ صرف پہلے تعارف کی برکت سے وہ ایمان لے آئے تھے ۔
یاد رکھو معجزات وہ طلب کیا کرتے ہیں کہ جن کو تعارف نہیں ہوتا ۔جو لنگوٹیا یار ہوتا ہے اس کے لیے تو سابقہ حا لات ہی معجزہ ہوتے ہیں ا س کے بعد حضرت ابو بکر ؓ کو بڑی بڑی تکالیف کا سامنا ہوا ۔طرح طرح کے مصائب اور سخت درجہ کے دکھ اُٹھانے پڑے ۔لیکن یا د رکھو اگر سب سے زیادہ انہیں کو دکھ دیا گیا تھا اور وہی سب سے بڑھ کر ستائے گئے تھے تو سب سے پہلے تخت نبوت پر وہی بٹھائے گئے تھے ۔کہاں وہ تجارت کہ تمام دن دھکے کھاتے پھرتے تھے اور کہاں یہ درجہ کی آنحضر ت ﷺ کے بعد سب سے اول خلیفہ انہیں کو مقر ر کیا گیا ۔
خدا تعالی پر بد ظنی نہ کرو
انسان کو چاہئیے کہ خدا تعالیٰ پر بدظنی کرنے سے بچے کیونکہ اس کا انجام آخر میں تباہی ہوا کرتا ہے ۔ جیسے فرما یا اللہ تعالیٰ نے وَذٰ لِکُم ظَنُّکُمُ الَّذی ظَنَتتُم برَبّکُم آردٰلکُم فآ صبحتم مِّنَ الخَاسرِینَ( حٰمٓ السجدۃ :۲۴) اس لئے سمجھنا چاہئیے کہ خدا تعالیٰ پر بد ظنی کرنا اصل میں بے ایمانی کا بیج بونا ہے جس کا نتیجہ آخر کار ہلاکت ہوا کرتا ہے ۔ جب کبھی خدا تعالیٰ کسی کو اپنا رسول بنا کر بھیجتا ہے تو جو اس کی مخالفت کرتا ہے وہ ہلاک ہو جاتا ہے ۔
مامور کے مخالف آخر پکڑے جاتے ہیں
یا د رکھو جب ایک مامور من اللہ آتا ہے تو اس سے منہ پھیرنا اصل میں خدا سے منہ پھیرنا ہے دیکھو گورنمنٹ کا ادنیٰ چیڑاسی ہوتا ہے ۔ پانچ روپیہ ماہوار اس کی تنخواہ ہو تی ہے لیکن جب وہ گورنمنٹ کے حکم سے سرکاری پروانہ لے کر زمینداروں کے پاس جاتا ہے ۔اگر زمیندار یہ خیال کر کے کہ یہ ایک پانچ روپیہ کا ملازم ہے اس کو تنک کریں اور بجائے اس کے حکم کی تعمیل کرنے کے اُلٹا اس کو ماریں پلٹیں اور بد سلوکی سے پیش آویں ۔تو اب بتلاؤ کہ کیا گورنمنت ایسے شخصوں کو سزا نہ دے گی ؟
دے گی اور ضرور دے گی کیونک گورنمنٹ کے چپڑاسی کو بے عزت اور ذلیل کر نا اصل میں گورنمنت کو ہی بے عزت اور ذلیل کرنا ہے اسی طرح جو شخص خدا تعالیٰ کے مامور کی مخالفت کرتا ہے وہ اس کی نہیں بلکہ حقیقت میں وہ خدا کی مخالفت کرتا ہے ۔۱؎