اندیشہ ہو تا ہے کہ لوٹ کر وہ کہیں پھر نفس امارہ نہ بن جاوے ۔لیکن نفس مطمنہ کا وہ مرتبہ ہے کہ جس میں نفس تما کمزوریوں سے نجا ت پا کر روحانی قوتوں سے بھر جاتا ہے ۔ غرض یا د رکھنا چاہئیے کہ جب تک انسان اس مقام تک نہیں پہنچتا اس وقت تک وہ خطرہ کی حالت میں ہوتا ہے ۔اس لئے چاہئیے کہ جب تک انسان اس مرتبہ کو حا صل نہ کرے مجاہدات اور ریاضات میں لگا رہے ۔ روح کا جذام سوچنا چاہئے کہ انسان کے بدن پر جذام کا داغ نکل آتا ہے تو پھر کیسے کیسے خیالات اس کے دل میں اُٹھتے ہیں اور کیسے دور دراز کے نتیجوں پر وہ پہنچتا ہے اور اپنی آنے والی حالت کا خیال کر کے وہ کیسا غمگین ہو تا ہے ۔ کبھی خیال کرتا ہے کہ شاید اب لوگ مجھ سے نفرت کرنے لگ جائیں گے اور میرے ساتھ بد سلوکی سے پیش آئیں گے اور کبھی سوچتا ہے کہ خدا جانے اب کیسی ابتر حالت میں ہو جاؤں گا اور کن کن دکھوں میں مبتلا ہو ں گا ۔لیکن افسوس کہ اس بات کا خیال تک بھی نہیں کیا جا تا کہ آخر مرنا ہے اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے اس وقت کیا حالت ہو گی ۔ یہ جذام تو ایسا ہے کہ مرنے کے بعد ہی اس سے خلاصی ہو جاتی ہے مگر وہ کوڑھ جو روح کو لگ جاتا ہے وہ تو ابد تک رہتا ہے کیا کبھی اس کا بھی فکر کیا ہے ۔ دو جنتیں یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کی طرف صدق اور اخلاص سے قدم اُٹھاتے ہیں وہ کبھی ضا ئع نہیں کئے جاتے ان کو دو نوجہانوں کی نعمتیں دی جاتی ہیں جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ولمن ( الرحمن : ۴۷) اور یہ اس واسطے فرمایا کہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ میری طرف آنیوالے دنیا کھو بٹھتے ہیں ۔بلکہ ان کے لئے دو بہشت ہیں ایک بہشت ہیں ایک بہشت تو اسی دنیا میں اور ایک جو آگے ہو گا ۔ دیکھو اتنے انبیاء گذرے ہیں کیا کسی نے اس دنیا میں ذلت اور خواری دیکھی ؟ سب کے سب اس دنیا میں سے کامیاب اور مظفر و منصور ہو کر گئے ہیں ۔خدا تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کا تباہ کیا اور ان کو عزت اور جلال کے تخت پر جگہ دی لیکن اگر وہ اس دنیا کے پیچھے پڑتے تو زیادہ سے زیادہ دس بارہ روپیہ ما ہوار کی نوکری انہیں ملتی کیونکہ وہ صاف گو اور سادہ طبع تھے مگر جب انہوں نے خدا کے لئے اس دنیا کو چھوڑا تو ایک دنیا اُن کے تا بع کی گئی ۔ غور کر کے دیکھو کہ اگر ان لوگوں نے خدا کے لئے اس دنیا کو چھوڑ دیا تھا تو نقصان کیا اُٹھایا ؟ حضرت ابو بکر صدیقؓ کو ہی دیکھو کہ جب وہ شام کے ملک واپس آرہے تھے تو راستہ میں ایک شخص ان کو ملا ۔آپ نے اس سے پو چھا کہ کوئی تا زہ خبر سناؤ ۔ اس شخص نے جواب دیا کہ اور تو کوئی تا زو خبر نہیں ۔ البتہ تمہارے دوست محمد ( ﷺ ) نے پیغمبری کا دعویٰ کیا ہے ۔ اس پر ابو بکر صدیق ؓ نے اس کو جواب دیا کہ اگر اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو وہ سچا ہے ۔ وہ جھوٹا کبھی نہیں ہو سکتا ۔اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق ؓ سیدھے حضرت نبی کریم ﷺ