کرتا ہے کہ اس کو معلوم نہیں کہ زندگی کے ایام کتنے ہیں۔ جب انسان جان لیتا ہے کہ موت اس کے آگے کھڑی ہے تو پھر وہ گناہ کے کاموں سے رُک جاتاہے ۔ خدا رسیدہ لوگوں کو ہر روز اپنے اور اپنے دوستوں کے متعلق معلوم ہوتا رہتاہے کہ ان کے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے ۔ اس واسطے وہ دُنیا کی باتوں پر خوش نہیں ہو سکتے اور نہ اُن پر تسلی پکڑ سکتے ہیں۔ دیکھو اس وقت ملک میں طاعون پھیلی ہوئی ہے ۔ خدا تعالیٰ نے مجھے اس کے متعلق ایسے وقت میں اطلاع دی تھی جبکہ یہاں طاعون کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ اسی وقت میں نے لوگوں کو اس کے متعلق اطلاع کر دی تھی۔ یاد رکھو۔ جب غفلت اور دُنیا پرستی بہت بڑھ جاتی ہے تو پرھ تباہیوں کے آنے کا وقت ہوتاہے ۔ میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ جب تک یہ لوگ شرارت کو نہ چھوڑیں گے اور اپنی اصلاح نہ کریں گے اوراپنے اخلاق درست نہ کر لیں گے تب تک یہ بیماری ملک سے دور نہ ہوگی۔ ایسا ہی دوسری بلا زلزلہ کی ہے ۔ ہمارے ملک کے لوگ اس قسم کے خوفناک زلزلوں سے کبھی آگاہ نہ تھے۔ کبھی اتفاقی کوئی زلزلہ آجاتا تھا ۔ لیکن اب نہایت خوفناک زلزلے آتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار اطلاع دی ہے کہ ہنوز ایک سخت تباہ کن زلزلہ آنے والا ہے ۔ جس سے یہ ملطب ہے کہ لوگ کسی طرح خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ وہ رب جس نے پیدا کیا ہے اس کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ جب انسان خدا تعالیٰ کی طرف جُھکتا ہے تو اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اس کی عمر زیادہ ہو جاتی ہے اور خوفناک صدموں کے وقت وہ بچایا جاتاہے۔ بدظنی :۔ سارے گناہوں کی جڑبد ظنی ہے۔ لکھا ہے کہ جب کافر لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے انہیں کیا جائے گا کہ یہ تمہاری بد ظنی کا نتیجہ ہے ۔ خدا تعالیٰ کا رسول تمہارے پاس آیا ۔ اس نے تمہیں نیکی کی بات سکھائی ۔ توبہ اور استغفار کا سبق دیا پر تم نے اس کی مخالفت کی۔ اور اس پر بدظنی کرکے کہا کہ تجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی الہام نہیں ہوتا۔ تُو سب باتیں اپنے پاس سے بنا کر کہتاہے ۔ دیکھو ہم خدا تعالیٰ سے خبر پاکر مخلوق کو اطلاع دیتے ہیں کہ ایک سخت زلزلہ آنے والا ہے ۔ تم نیکی اختیار کرو۔ بدیوں سے بچو۔ اپنی اصلاح کرو اور خدا تعالیٰ سے ڈرو تاکہ مصیبت کے وقت میں بچائے جائو اور تم پر رحم کیا جاوے۔ اس کے جواب میں یہ لوگ اخباروں اور اور خطوں میں ہم کو گندی گالیاں دیتے ہیں اور ہر طرح سے ستانے کی کوشش کرتے ہیں اور دُکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو جھوٹا ہے اور افتراء کرتاہے مگر ہمارا فرض ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو خبر ہم کو دی ہے وہ ہم ان لوگوں کو پہنچادیں ۔ ایک شخص ایک گائوں میں رہنے والا یقینا جانتا ہے کہ صبح ہوتے یہ گائوں ہلاک ہو جائے گا۔ پھر اگر وہ گائوں کے رہنے والوں کو اس طوفان سے