مخلوق کے سا تھ معاملہ کرنا یہ بطور آئینہ کے ہے ۔ جو اپنے شخص اپنے بھائیوں سے صاف صاف معاملہ نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کے حقو ق بھی اد ا نہیں کر سکتا ۔ یا د کھو ۔اپنے بھائیوں کے سا تھ بکلی صاف ہو جانا یہ آسان کام نہیں بلکہ نہایت مشکل کام ہے ۔ منافقانہ طور پر آپس میں ملنا جلنا اور بات ہے مگر سچی محبت اور ہمدردی سے پیش آنا اور چیز ہے ۔ یا درکھوں اگر اس جماعت میں سچی ہمدردی نہ ہوگی تو پھر یہ تباہ ہو ئے گی اور خدا اس کی جگہ کوئی اور جماعت پیدا کر لے گا ۔۳؎ اللہ تعالیٰ اس جماعت کو صحابہ ؓ کے رنگ میں رنگین کرنا چاہتا ہے ۔ ہمارے نبی کریم ﷺ نے جو جماعت بنائی تھی ۔ان میں سے ہر ایک زکی نفس تھا اور ہر ایک نے اپنی جان کو دین پر قربان کر دیا ہوا تھا ان میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جو منافقانہ زندگی رکھتا ہو ۔ سب کے سب حقو ق اللہ اور حقو ق العباد کو ادا کرنے والے تھے سو یا درکھو اس جماعت کو بھی خدا تعالیٰ انہیں کے نمونے پر چلانا چاہتا ہے اور صحابہ ؓ کے رنگ میں رنگین کرنا چاہتا ہے ۔ جو شخص منافقانہ زندگی بسر کرنے والا ہوگا وہ آخر اس جماعت سے کا ٹا جائے گا ۔ یاد رکھو یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے خبیث اور طیب کبھی اُکٹھے نہیں رہ سکتے ۔ابھی وقت ہے کہ اپنی اپنی اصلاح کر لو ۔ یاد رکھو کہ انسان کا دل خدا کے گھر کی مثال ہے۔ خانہ خدا اور خانہ انسان ایک جگہ نہیں رہ سکتا جب تک انسان اپنے دل کو پورے طور پر صاف نہ کر ے۴؎اور اپنے بھائی کے لئے دکھ اُٹھانے کو تیار نہ ہو جائے تب تک