جماعت بہت خو ش نصیب ہے ۔۳؎اس کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئیے کہ اس نے اپنے فضل سے ہدایت عطا فرمائی لیکن یہ ابھی ابتدائی حالت ہے ۔ جماعت کے لئے ضروری نصائح میں خوب جانتا ہوں کہ ابھی بہت سی کمزوریاں اس میں پائی جاتی ہیں ۔اس لئے سمجھنا چاہئیے کہ خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے ۔ قد آفَلَحَ مَن زَکٰھَا وَقَد خابَ مَن وَسّٰھَا ( الشمس : ۱۰ ۔ ۱ ۱ ) جس کا مطلب یہ ہے کہ نجات پا گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کر لیا اور غائب اور خا سر ہو گیا ۔ وہ شخص جو اس سے محروم رہا اس لئے اب تم لوگوں کو سمجھنا چاہئیے کہ تزکیہ نفس کس کو کہا جاتا ہے ۔ تزکیہ نفس کی حقیقت سو یاد رکھو کہ ایک مسلمان کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرنے کے واسطے ہم تن تیار رہنا چاہئیے اور جیسے زبان سے خدا تعالیٰ کو اس کی ذات اور صفات میں وحدہ لا شریک سمجھتا ہے ایسے ہی عملی طور پر اس کو دکھانا چاہئیے اور اس کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور ملائمت سے پیش آنا چاہئیے اور اپنے بھائیوں سے کسی قسم کا بھی بغض حسد اور کینہ نہیں رکھنا چاہئیے اور دوسروں کی غیبت کرنے سے بالکل الگ ہو جانا چاہئیے ۔لیکن میں دیکھتا ہوں ۔کہ یہ معاملہ تو ابھی دور ہے کہ تم لو گ خدا تعالیٰ کے سا تھ ایسے از خود رفتہ اور محو ہو جاؤ کہ بس اُسی کے ہو جاؤ اور جیسے زبان سے اس کا اقرار کرتے ہو عمل سے بھی کر کے دکھاؤ ۔ابھی تو تم لوگ مخلوق کے حقو ق کو بھی کما حقہ ادا نہیں کرتے بہت سے ایسے ہیں جو آپس میں فساد اور دشمنی رکھتے ہیں اور اپنے سے کمزور اور غریب شخصوں کو نظر حقارت سے دیکھتے ہیں اور بد سلوکی سے پیش آتے ہیں اور ایک دوسرے کی غیبتیں کریت اور اپنے دلوں میں بغض اور کینہ رکھتے ہیں ۔ لیکن خدا تعالی فرماتا ہے کہ تم آپس میں ایک وجود کی طرح بن جاؤ ۱؎۔اور جب تم ایک وجود کی طرح ہو جاؤ گے اس وقت کہہ سکیں گے کہ اب تم نے اپنے نفسوں کا تزکیہ کر لیا ۔ کیونکہ جب تک تمہارا آپس میں معاملہ صاف نہیں ہوگا اس وقت تک خدا تعالیٰ سے بھی معاملہ صاف نہیں ہو سکتا ۔۲؎گو ان دو قسموں کے حقوق میں بڑا حق خدا تعالیٰ کا ہے مگر اس کی