خدا تعالیٰ کے سا تھ معاملہ صاف نہیں ہو سکتا اور یہ باتیں میں اس واسطے بیان کرتا ہوں کہ آپ لوگ جو یہاں قادیان میں آئے ہو ایسا نہ ہو کہ پھر خالی کے خالی ہی واپس چل جاؤ ۔
توبہ کی حقیقت
زندگی کا کچھ اعتبار نہیں معلوم نہیں کہ آئندہ سال تک کون مرے اور کون زندہ رہے گا ۔ اس لئے سچے دل سے توبہ کرنی چاہئیے ۔خدا تعالیٰ فرما تا ہے ۔ یا ٓیُّھَا الَّذینَ اٰمنُو اتُو الیَ اللّٰہ تَوبَۃً نَّصُوحاً ( الحریم : ۹ ) سو انسان کو چاہئے کہ اگر توبہ کر ے تو خا لص توبہ کرے ۔توبہ اصل میں رجوع کو کہتے ہیں ۔صرف الفاظ ایک قسم کی عادت ہو جاتی ہے ۔ا س لئے رجوع کرنے کا کیونکہ جب متناقض جہات میں سے ایک کو چھوڑ کر انسان دوسری طر فاآجاتا ہے تو پھر پہلی جگہ دور ہو جاتی ہے اور جس کی طرف جاتا ہے و ہ نزدیک ہوتی جا تی ہے ۔ یہی مطلب تو بہ کا ہے کہ جب انسان خدا کی طرف رجوع کر لیتا ہے اور دن بدن اسی کی طرف چلتا ہے تو آخر یہ نتیجہ ہو تا ہے کہ وہ شیطان سے دور ہو جاتا ہے ۔اور خدا کے نزدیک ہو جاتا ہے اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جو جس کے نزدیک ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ کے فیوض اور برکات کا نزول ہو تا ہے اور سفلی آلائشوں کا گند اُس سے دھویا جا تا ہے جیسے آگے فرمایا ۔عسٰی رَبُّکُم اَن یُّکَفرَ عَنکُم سَیّاٰ تِکُم ( الحریم :۹) کیونکہ توبہ میں ایک خا صیت ہے کہ گذشتہ گناہ اس سے بخشے جاتے ہیں ۔ایسے ہی ایک جگہ خدا تعالیٰ فرما تا ہے ۔ انَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوبِین وَیُحبّ المُتَطَھرِین ( البقرۃ : ۲۲۳)
توَّ اب اور متَطَھر
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک تو تواب ہوتے ہیں اور ایک متطہر ہو تے ہیں ۔تو اب ان کو کہا جاتا ہے بو بکلی خدا کی طر ف رجوع کر لیتے ہیں اور متطہر وہ ہوتے ہیں کہ وہ مجاہدات اور ریاضا ت کرتے رہتے ہیں اور اُن کے دل میں ایک کیٹ سی لگی رہتی ہے کہ کس طرح سے اُن آلائشوں سے پاک ہو جاویں اور نفس امارہ کے جذبات پر ہر طرح سے غالب آکر زکی النفس