دھندون اور بکھیڑوں میں سر گردان اور مارا مارا پھرتا ہے۔ انسان کو چاہئیے کہ جتنی جلدی اُس سے ہو سکے خدا سے اپنا تعلق قائم کرے ۔ جب تک اس کے ساتھ تعلق نہیں ہوتا تب تک کچھ بھی نہیں ۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ اگر انسان آہستہ آہستہ خدا کی طرف جاتا ہے تو خدا جلدی سے اس کی طرف آتا ہے اور اگر انسان جلدی سے اس کی راہ میں ترقی کرتا ہے تو خدا دوڑ کر اس کی طرف آتا ہے لیکن اگر بندہ خدا سے لا پروا بن جائے اور غفلت اور سستی سے کام لے پھر اس کا نتیجہ بھی ویسا ہی ہو تا ہے ۔ ذوالقرنین سے مراد مسیح موعو د ؑ ہے ایک دفعہ سورہ کہف جس میں ذوالقرنین کا بھی ذکر ہے ۱؎ میں دیکھ رہا تھا تو جب میں نے اس قصہ کو غور سے پڑھا تو مجھے معلوم ہو ا کہ اس میں بعینہ اس زمانہ کا حال درج ہے ۔جیسے لکھا ہے کہ جب اس نے سفر کیا تو ایسی جگہ پہنچا جہاں کہ اُسے معلوم ہوا کہ سورج کیچڑ میں ڈوب گیا ہے اور یہ اس کا مغربی سفر تھا اور اس کے بعد پھر وہ اییسے لوگوں کے پا س پہنچتا ہے جو دھوپ میں ہیں اور جن پر کوئی سایہ نہیں ۔پھر ایک تیسری قوم اُسے ملتی ہے جو یا جو ج ماجوج کے حالات بیان کر کے اس سے حمایت طلب کرتی ہے ۔ اب مثالی طور پر خدا تعالیٰ نے یہی بیان کیا ہے لیکن ذولقرنین تو ا سکو بھی کہتے ہیں جس نے دو صدیاں پائی ہوں اور ہم نے دو صدیوں کو اس قدر لیا ہے کہ اعتراض کا موقعہ ہی نہیں رہتا میں نے ہر صدی پر دو صدیوں سے حصہ لیا ہے ۔ تم حساب کر کے دیکھ لو اور یہ جو قرآن میں قصص پائے جاتے ہیں تو یہ صرف قصہ کہانیاں نہیں بلکہ یہ عظیم الشان پیشگوئیا ں ہیں جو شخص ان کو صرف قصے کہانیاں سمجھتا ہے وہ مسلمان نہیں ۔ غرض اس حساب سے تو مجھے بھی ذوالقرنین ماننا پڑے گا اور ائمہ دین میں سے بھی ایک نے ذوالقرنین سے مسیح مراد لیا ہے ۔ اب خدا تعالیٰ نے اس قصہ میں مغربی اور مشرقی دو قوموں کا ذکر کیا ہے ۔ مغربی قوم سے مراد تو وہ لوگ ہیں جن کا انجیل اور دیگر صحیفہ جات کا صاف شفاف پانی دیا گیا تھا ۔مگر وہ روشن تعلیم انہوں نے ضا ئع کر دی اور اپنے پاس کیچڑ اور گند باقی رہنے دیا اور مشرقی قوم سے وہ مسلمان لو مراد ہیں جو امام کے سایہ کے نیچے نہیں آئے اور ۲؎ دھوپ کی شعاعوں سے جھلسے جا رہے ہیں لیکن ہماری