آنے والے سخت ایام یہ باتیں جو میں کہہ رہا ہوں میں نہیں جانتا کہ تم میں سے کتنے آدمی جو سچے دل سے ان باتوں کو مانتے ہیں ۔مگر میں پھر بھی وہی کہتا ہون کہ یہ دن جو آنے والے ہیں تو یہ نہایت سخت ہیں ۔ لوگوں کی بد اعتقادیوں اور بد عملیوں نے خدا کے عذاب کو بھڑکا دیا ہے ۔ تمام نبیوں نے اس زمانہ کی نسبت پہلے ہی سے خبر دے رکھی ہے کہ اس وقت ایک مرحی پڑے گی اور کثرت سے اموات ہو ں گی ۔ اور پھر حدیثوں میں لکھا ہے ک جہاں تک خدا کے مسیح کی نظر پہنچ سکے گی کافر تباہ اور ہلاک ہوتے جائیں گے یہ بھی بالکل سچی بات ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس پر اس کی نظر پڑے گی وہی تباہ ہو تا جائے گا ۔بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ جو اس کی نظر میں نشانہ بنیں گے وہ تباہ اور ہلاک ہو تے جائیں گے لیکن اب تو تمام دنیا نشانہ بن رہی ہے ۔ خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے ۔ وماَ خَلقَتُ الجِنَّ وَالانسَ اِلَّا لیَعبُدُونِ ( الذاریات : ۵۸ ) یعنی تما جن اور انسان صرف اسی واسطے پیدا کئے گئے تھے کہ وہ خدا تعالیٰ کی معرفت میں ترقی کر تے اور اللہ اور اس کے رسولوں کے حکموں پر چلتے ۔ دنیو ی مشاغل میں انہماک مگر اب تم خود سوچ لو کہ کتنے لوگ ہیں جو دینداری سے زندگی بس کر رہے اور دین کو دنیا پر مقدم کر رہے ہیں ۔ تم خود کسی بڑے شہر مثلاً کلکتہ ۔دہلی ۔پشاور اور لاہور اور امر تسر وغیرہ کے چوک میں کھڑے ہو کر دیکھ لو ۔ ہزاروں لاکھوں لوگ ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر دوڑتے پھرتے ہیں ۔مگر اُن کی یہ سب دوڑ دھوپ محض دنیا کے لئے ہوتی ہے ۔ آپ کو بہت تھوڑے ایسے ملیں گے جو دین کے کام میں ایسی سر گرمی سے مشغول ہوں ۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دنیا کی خا طر بڑے بڑے مصائب کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ مگر دین میں نہایت بو دے پائے جاتے ہیں ۔ ایک ذرا سے ابتلا ء پر جھوٹ جیسی نجاست کو کھانے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور اپنی نفسانی خواہشوں کو پورا کرنے کے لئے کن کن حیلوں سے کام لیتے ہیں کہ گویا خدا ہی نہیں ۔ انسان جتنی ٹکریں اپنی بیوی کو خو ش کرنے اور اس کی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ما رتا ہے ۔ اگر خدا کی راہ میں اتنی کو شش کرے تو کیا وہ خوش نہ ہوگا ؟ ہو گا اور ضرور ہو گا مگر کوئی کو شش کر کے بھی دیکھے ۔اگر ایک کے ہاں اولاد نہیں ہو تی تو محض ایک بچہ کی خا طر وہ کیسی کیسی سختیاں جھیلتا ہے اور کس طرح کے وسائل اور تدابیر سے اس کے حاصل کرنے کی کو شش کرتا ہے اور کہاں کا کہاں خوار ہوتا پھرتا ہے گویا خدا اس کے نزدیک ہے ہی نہیں ۔ غرض یا د رکھنا چاہئیے کہ انسان جب اپنی زندگی کی اصل غرض سے غافل ہو جاتا ہے تو پھر و ہ اس قسم کے