کے وقت میں پہلے تو ٹڈیوں جوؤں اور مینڈکوں وغیرہ کے عذاب ہی آتے رہے تھے اور مخالفوں نے اُن کو ایک قسم کا تما شا سمجھ رکھا تھا۳؎ اور اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ ان بد بختوں کو یہ خبر نہ تھی کہ ایک وہ معجزہ بھی ظاہر ہو گا ۔ جب کہ اُسے اٰمنٰتُ آنَّہٗ لَآ اِلہِ اِلَّا الَّذیٓ اٰمَنتُ بہِ سَوُآ اسرَآئیلَ ( یونس) بھی کہنا پڑے گا ۔ ابتدائی منذرات کو عبر ت کی نظر سے دیکھو سو اس بات کو اچھی طرح سے یاد رکھو کہ اگر ابتدائی منذرات کو عبر ت کی نظر سے دیکھو گے اور خدا تعالیٰ سے ڈر کر استغفار ۔لا حول اور دوسرے نیک کاموں میں مشغول ہو جاؤ گے تو یہ تمہارے لیے اچھا ہوگا ۔ لیکن جو بے پرواہی سے کام لیتا ہے توآخر کار جب وہ وقت آئے گا تو اس وقت رونے چلانے سے کوئی فائدہ نہ ہو گا اور آخر کار بڑی ذلت اور نا مرادی سے ہلاکت کا منہ دیکھنا پڑے گا اور پھر جس دنیا کے لئے دین سے منہ موڑا تھا اس کو بھی بڑی حسرت سے چھوڑنا پڑے گا ۔ دیکھو طاعون بھی آنے والی ہے ۔ دنیا کہتی ہے کہ اب تو دور ہو گئی ہے اور اس کا دور ختم ہو گیا ہے مگر خدا کہتا ہے کہ عنقریب ایسی طاعون پھیلنے والی ہے جو پہلے کی نسبت نہایت ہی سخت ہو گی اور پھر یہ بھی فرمایا ہے کہ ایک سخت وبا پھیلے گی جس کا کوئی نام بھی نہیں رکھ سکتے ۔ توبہ ۔ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کا متفق علیہ مسئلہ لیکن ان باتوں کے بعد میں تمہیں کہتا ہوں ۔کہ خدا تعالیٰ کی رحمتیں سمندروں سے بھی زیادہ ہیں ۔اگر وہ شدید العقاب ہے تو غفور رحیم بھی تو ہے ۔جو شخص توبہ کرتا اور استغفار اور لا حول میں مشغول ہو جاتا ہے اور دین کو دنیا پر مقدم کر لیتا ہے تو وہ ضرور بچایا جاتا ہے ۔ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کا یہ متفق علیہ مسئلہ ہے کہ عذاب آنے سے پہلے ڈرتے ہیں ۔اور خدا کی یاد میں مشغوں ہو جاتے ہیں وہ اس وقت ضرور بچائے جا تے ہیں جب کہ عذاب اچانک آدباتا ہے۔لیکن جو اس وقت روتے اور آہ وزاری کرتے ہیں جب کہ عذاب آپہنچتا ہے اور اس وقت گڑ گڑاتے اور توبہ کر تے ہیں جب کہ ہر ایک سخت سے سخت دل والا بھی لرزاں اور تر ساں ہوتا ہے تو وہ بے ایمان ہیں وہ ہر گز نہیں بچائے جاتے ۔