بات ہے کہ انسان کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہو جاتا حقیقی بھلائی کا حا صل کر لینا ہے ۔ ایسے شخص کی اگر تمام دنیا دشمن ہو جائے اور اس کی ہلا کت کے در پے رہے تو اس کا کچھ بگا ڑ نہیں سکتی اور خدا تعالیٰ کو ایسے شخص کی خا طر اگر لاکھوں کروڑوں انسان بھی ہلاک کرنے پڑیں تو کر دیتا ہے اور اس ایک کی بجائے لاکھوں کو فنا کر دیتا ہے ۔
حقیقی نماز
یاد رکھو ۔یہ نماز ایسی چیز ہے ۔کہ اس دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی ۔لیکن اکثر لو گ جو نماز پڑھتے ہیں تو وہ نماز ان پر لعنت بھیجتی ہے ۱؎ جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فویلٌ لِّلمُصَلِّینَ الَّذینَ ھُم عَن صَلَا تھم سَاھُونَ ( الماعون : ۵۔۶) یعنی لعنت ہے ان نمازیوں پر جو نماز کی حقیقت سے ہی بے خبر ہو تے ہیں ۔
نماز تو وہ چیز ہے کہ انسان اس کے پڑھنے سے ہر ایک طرح کی باد عملی اور بے حیائی سے بچایا جا تاہے ۔مگر جیسے کہ میں پہلے بیان کر چکا ہون اس طرح نماز پڑھنی انسان کے اپنے اخیتار میں نہیں ہوتی ۔اور یہ طریق خدا کی مدد اور استعانت کے بغیر حا صل نہیں ہو سکتا اور جب تک انسان دعاؤں میں نہ لگا رہے اس طرح کا خشو ع اور خضوع پیدا نہیں ہو سکتا ۔ اس لئے چاہئے کہ تمہا را رات غرض کوئی گھڑی دعاؤں سے خا لی نہ ہو ۔
بہت سخت دن آنیوالے ہیں
یا د رکھو کہ بہت سخت دن آنے والے ہیں جن میں دنیا کو خطر ناک شدائد اور مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ عنقریب سخت وبائیں اور طرح طرح کی آفات ارضی وسماوی ظاہر ہونے والی ہیں اور ایک شدید زلزلہ کی بھی خبر دے رکھی ہے جو کہ قیامت کا نمونہ ہو گا اور جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے بغتہً فرمایا ہے یعنی وہ زلزلہ نا گہانی طور پر آجائے گا ۔ا یسے ہی اور بھی بہت سی ڈراونی خبریں خدا تعالیٰ نے دے رکھی ہیں ۔ اگر تمہیں ان باتوں کا پتہ ہو جائے جو میں دیکھ رہا ہوں تو سارا دن اور ساری رات خدا تعالیٰ کے آگے روتے رہو ۔
دیکھو اسی ایک مہنہ میں ہی تین زلزلے آچکے ہیں اور یہ سب بطور پیش خیمہ کے ہیں ۲؎ حضرت موسیٰ علیہ السلام