وہ لوگ اپنے سوراخوں کی حفا ظت کریں گے ۔کیونکہ جب ایک شخص دین کو دنیا پر مقدم رکھتا ہے اور اپنے مال کا خدا کی راہ پر خرچ کرتا ہے وہ کسی اور کے مال کو ناجائز طریقہ سے کب حا صل کرنا چاہتا ہے اور کب چاہتا ہے کہ میں کسی دوسرے کے حقوق کو وبالُوں ۴؎۔ اور جب وہ اپنی مال جیسی عزیز چیز کو خدا کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تو پھر آنکھ ناک ۔ کان زبان وغیرہ کو غیر محل پر کب استعمال کر نے لگا ۔کیونکہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب ایک شخص اول درجہ کی نیکیوں کی نسبت اس قدر محتاط ہوتا ہے تو ادنیٰ درجہ کی نیکیاں خود عمل میں آتی جاتی ہیں ۔مثلاً جب خشوع خضوع سے دعا مانگنے لگا تو پھر اس کے سا تھ ہی لغو سے بھی اعراض کرنا پڑا اور جب لغو سے اعراض کیا تو پھر زکوۃ کے اد اکرتے ہیں دلیر ہونے لگا۔اور جب اپنے مال کی نسبت وہ اس قدر محتاط ہو گیا تو پھر غیروں کے حقوق چھنینے سے بدر جہ اولی بچنے لگا ۔ اس لئے اس کے آگے فرمایا وَالَّذینَ ھُم لآ مَا نَا تھم وَعَھدِ ھم رَاعُونَ ( لمومنون : ۹) کیونکہ جو شخص دوسرے کے حق میں دست اندازی نہیں کرتا او ر جو حقوق اس کے ذمہ ہیں کو ادا کرتا ہے ۔اس کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے عہدوں کا پکا ہو اور دوسرے کی امانتوں میں خیانت کرنے سے بچنے والا ہو ۔ اس لئے بطور نتیجہ کے فرمایا کہ جب ان لوگوں میں یہ وصف پائے جاتے ہوں گے تو پھر لازمی بات ہے کہ وہ اپنے عہدوں کے بھی پکے ہوں گے ۔
نماز کی اہمیت اور حقیقت
پھر ان سب باتوں کے بعد فرمایا ۔ والَّذین ھُم عَلیٰ صَلَوتھم یُحافِظونَ المومنون ) یعنی ایسے ہی لوگ ہیں جو اپنی نما زوں کی حفاظت کر تے ہیں اور کبھی ناغہ نہیں کرتے اور انسان کی پیدائش کی اصل غرض بھی یہی ہے کہ نماز کی حیقت سیکھے ۔جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے وماَ خَلقَتُ الجِنَّ وَالانسَ اِلَّا لیَعبُدُونِ ( الذریات : ۵۸ )
غرض یا د رکھنا چاہئے کہ نماز ہی ہو شئے ہے جس سے سب مشکلات آسان ہو جاتے ہیں اور سب بلائیں دو ر ہوتی ہیں ۔مگر نماز سے وہ نماز مراد نہیں جو عام لوگ رسم کے طور پر پڑھتے ہیں بلکہ وہ نماز مراد ہے جس سے انسان کا دل گداز ہو جاتا ہے اور آستانہ احدیت پر گر کر ایسا محو ہو جا تا ہے کہ پگھلنے لگتا ہے ۔اور پھر یہ بھی سمجھنا چاہئیے کہ نماز کی حفاظت اس واسطے نہیں کی جاتی کہ خدا کو ضرورت ہے خدا تعالیٰ کو ہماری نمازوں کی کوئی ضرورت نہیں ۔وہ تو غنی عن العالمین ہے اس کو کسی کی حاجت نہیں ۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو ضرورت ہے اور یہ ایک راز کی بات ہے کہ انسان خود اپنی بھلائی چاہتا ہے اور اسی لیے وہ خدا سے مدد طلب کر تا ہے کیونکہ یہ سچی