کر دتیے ہیں اعراض کرنے لگ جاتا ہے ۱؎ اور ایسے لوگوں کی گریہ وزاری اور تضرع اور ابتہال اور خدا کے حضور عاجزی کرنے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ ایسا شخص دین کی محبت کو دنیا کی محبت حرص لالچ اور عیش وعشرت سب پر مقدم کر لیتا ہے کیونکہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ ایک نیک فعل دوسرے نیک فعل کو اپنی طرف کھنیچتا ہے اور ایک بد فعل دوسرے بد فعل کی ترغیب دیتا ہے ۔ جب وہ لوگ اپنی نمازوں میں خشوع خضوع کرتے ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے ۔ ہ ھم للزَّکَوۃِ فاعلُونَ ( لمومنین ـ ۵ ) یعنی وہ خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور یہ ایک نیتجہ یہ ہوتا ہے عن اللغُوِ مُعرِضُونَ کا ۔جبکہ دنیا سے محبت ٹھنڈی ہو جائے ۲۔؎ گی تو اس کا لازمی نتیجہ ہو گا کہ وہ خدا کی راہ میں خرچ کریں گے اور خواں قارون کے خزانے بھی ایسے لوگوں کے پاس جمع ہوں وہ پروا نہیں کریں گے اور خد ا کی راہ میں دینے سے نہیں جھجکیں گے ۔ ہزاروں آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ وہ زکوۃ نہیں دیتے یہاں تک کہ اُن کی قوم کے بہت س غریب اور مفلس آدمی تباہ اور ہلاک ہو جاتے ہیں مگر وہ ان کی پروا بھی نہیں کرتے حا لانکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہر ایک چیز پر زکوۃ دینے کا حکم ہے یہاں تک کہ زبور پر بھی ہاں جواہرات وغیرہ چیزوں پر نہیں اور جوامیر نواب اور دولت مند لوگ ہوتے ہیں ان کو حکم ہے کہ وہ شرعی احکام کے بموجب اپنے خزانوں کا حساب کر کے زکوٰۃ دیں لیکن وہ نہیں دیتے ۔ اس لئے خدا فرما تا ہے ۔ عن اللغُوِ مُعرِضُونَ ( المومنون :۴ ) کی حالت تو اُن میں تب پیدا ہوگی جب وہ زکوٰۃ بھی دیں گے یا زکوۃ کا دینا لغو سے اعراض کرنے کا ایک نتیجہ ۳؎ ہے ۔ پھر اس کے بعد فرمایا۔ والَّذینَ ھُم لفُرُو جھم حَافِظونَ ( المومنون : ۶ ) یعنی جب وہ لوگ اپنی نمازوں میں خشوع خصوع کریں گے ۔ لغو سے اعراض کریں گے اور زکٰوۃ اد اکریں گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ