طے یہ نیکی میں ترقی کر ہی نہیں سکتا ۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ سب مردے ہیں مگر جس کو خدا زندہ کرے اور سب گمراہ ہیں مگر جس کو خدا ہدایت دے اور سب اندھے ہیں مگر جس کو خدا بینا کرے ۔
غرض یہ سچی بات ہے کہ جب تک خدا کا فیض حا صل نہیں ہوتا تب تک دنیا کی محبت کا طوق گلے کا ہا ر رہتا ہے اور وہی اس سے خلاصی پاتے ہیں جن پر خدا اپنا فضل کرتا ہے مگر یا د رکھنا چاہئیے کہ خدا کا فیض بھی دعا سے ہی شروع ہو تا ہے ۔
لیکن یہ مت سمجھو کہ دعا صرف زبانی بک بک کا نام ہے بلکہ دعا ایک قسم کی موت ہے جس کے بعد زندگی حا صل ہوتی ہے جیسا کہ پنچابی میں ایک شعر ہے ۔ ؎
جو منگے سومر رہے مرے سو منگن جا
دعا میں ایک مقنا طیسی اثر ہوتا ہے وہ فیض اور فضل کو اپنی طرف کھنیچتی ہے ۔
یہ کیا دعا ہے کہ منہ سے تو اھدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیمَ کہے رہے اور دل میں خیال رہا کہ فلاں سودا اس طرح کرنا ہے ۔ فلاں چیز دہ گئی ہے ۔یہ کام یوں چاہئے تھا اگر اس طرح ہو جائے تو پھر یوں کریں گے ۔یہ تو صرف عمر کا ضا ئع کرنا ہے ۔ جب تک انسان کتا ب اللہ کو مقدم نہیں کرتا اور اسی کے مطابق عملدار آمد نہیں کرتا تب تک اس کی نمازیں محض وقت کا ضا ئع کرنا ہے ۔
دعا کے لوازمات اور نتائج
قرآن مجید میں تو صاف طور پر لکھا ہے قَد اَفلَحَ المُئومنُونَ الَّذینَ ھُم فٰی صَلَاتھم خَا شِعُونَ ( المومنون : ۳۔۶ )
یعنی جب دعا کرتے کرتے انسان کا دل پگھل جائے او ر آستانہ الوہیت پر ایسے خلوص اور صدق سے گر جاوے کہ بس اسی میں محو ہو جاوے اور سب خیالات کو مٹا کر اسی سے فیض اور استعانت طلب کرے اور ایسی یکسوئی حا صل ہو جائے کہ ایک قسم کی رقت اور گداز پید ا ہو جائے تب فلاح کا دروازہ کھل جاتا ہے جس سے دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو جاتی ہے ۔کیونکہ دو محبتیں ایک جگہ جمع نہیں رہ سکتیں ۔جیسے لکھا ہے ۔
ہم خدا خواہی وہم دنیا سے دوں
ایں خیال امت ومحال است وجنون
اسی لیے اس کے بعد ہی خدا فرماتا ہے وَالَّذینَ ھُم عَنِ اللَّغوِمُعرِضُونَ ( المومنون : ۴ )
یہاں لغو سے مراد دنیا ہے یعنی جب انسان کو نمازوں میں خشوع اور خضوع حا صل ہونے لگ جاتا ہے تو پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دنیا میں محبت اس کے دل سے ٹھنڈی ہو جاتی ہے ۔ا س سے مراد نہیں ہے کہ پھر وہ کاشتکار ی ‘تجارت ‘ نوکری وغیرہ چھوڑ دیتا ہے بلکہ وہ دنیا کے ایسے کاموں سے جو دھوکہ دینے والے ہوتے ہیں اور جو خدا سے غافل