شیطان کا مرنا ابھی باقی ہے مگر شیطا ن کا مرنا ابھی باقی ہے کیونکہ میں دیکھتا ہون کہ اس کا بہت ساتسلط ابھی تم لوگوں پر باقی ہے ۔ اکثر یہاں سے بیعت کر جاتے ہیں اور گھر میں پہنچ کر ایک خط ارمداد کا لکھ دیتے ہیں اور اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ کوئی مولوی انہیں مل جاتا ہے جو طرح طرح کی باتیں سناکر اور ہم پر قسم قسم کے جھوٹے الزام قائم کر کے ان پو پھسلا دیتا ہے اور ان لوگوں میں بھی چونکہ شیطان کا بہت سا حصہ با قی ہوتا ہے اس لئے وہ شیطان سیرت لوگوں کے پھندوں میں بہت جلد پھنس جاتے ہیں ۔چونکہ میں اپنے دعویٰ کے متعلق کتاب حقیقۃ الوحٰی میں بہت کچھ بیان کر چکا ہوں اور تم اس کو پڑھ بھی چکے ہو ۔ اس لئے اگر میں اس کے متعلق کچھ بیان کرو ں تو تقریر کا سلسلہ لمبا ہو جائے گا ۔ سو اس وقت تم لوگوں کو شیطان کی وفات کو مسئلہ یا د کر لینا چاہئے حضرت عیسیٰ کو جو ایک فرضی حیات مانی ہوئی تھی اس کو مارنے میں تم لوگ کامیاب ہو گئے ہو مگر شیطان کا مارنا ابھی باقی ہے ۔ مگر یا د رکھنا چاہیے کہ اس کا مارنا صرف اسی قدر نہیں ہے کہ صرف زبان سے ہی کہہ دیا جائے کہ شیطان مر گیا ہے اور وہ مر جاوے بلکہ تم لوگوں کو عملی طور پر دکھانا چاہئیے کہ شیطان مر گیا ہے شیطا ن کی موت قال سے نہیں بلکہ حا ل سے ظاہر کرنی چاہئیے ۔خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ آخری مسیح کے زمانہ میں شیطان بالکل مر جائے گا ۔گو شیطان ہر ایک انسان کے سا تھ ہوتا ہے ۔ مگر ہمارے نبی کریم ﷺ کا شیطان مسلمان ہو گیا تھا ۔ شیطان کے لا حول سے بھاگنے کی حقیقت اسی طرح خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اس زمانہ میں شیطان کی بالکل بیخ کنی کر دی جائے گی ۔ یہ توتم جانتے ہی ہو کہ شیطان لاحول سے بھاگتا ہے ۔مگر وہ ایسا سادہ لوح نہیں کہ صرف زبانی طور پر لاحول کہنے سے بھاگ جائے ۔اس طرح سے تو خواہ سو دفعہ لا حول جاوے وہ نہیں بھاگے گا ۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ جس کے ذرہ ذرہ میں لا حول سرایت کر جاتا ہے اور جو ہر وقت خدا تعالیٰ سے ہی مدد اور استعانت طلب کرتے رہتے ہیں اور اس سے ہی فیض حا صل کرتے رہتے ہیں ۔وہ شیطان سے بچائے جاتے ہیں اور وہی لو گ ہوتے ہیں جو فلاح پانے والے ہوتے ہیں ۔ دعا کی ضرورت اور حقیقت مگر یا د رکھو کہ یہ خدا تعالیٰ نے قرآن مجید کی ابتداء بھی دعا سے ہی کی ہے اور پھر اس کو ختم بھی دعا پر ہی کیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان ایسا کمزور ہے کہ خدا کے فضل کے بغیر پاک ہو ہی نہیں سکتا ۲؎اور جب تک خدا تعالیٰ سے مد د اور نصرت نہ