کمزور کو ایسا قوی کرتی ہے اور ایسی گرمی پہنچاتی ہے جس سے وہ پہاڑوں پر چڑھ سکے۔ ان متقابل آیتوں کے پیش کرنے سے جن میں ایک جگہ کافور کاذکر ہے اور ایک جگہ زنجبیل کا ، خدا تعالیٰ کی یہ غرض ہے کہ تا اپنے بندوں کو سمجھائے کہ جب انسان جذبات نفسانی سے نیکی کی طرف حرکت کرتاہے تو پہلے پہل اس حرکت کے بعد یہ حالت پیدا ہوتی ہے کہ اس کے زہریلے مواد نیچے دبائے جاتے ہیں اور نفسانی جذبات روبکمی ہونے لگتے ہیں جیساکہ کافور سے زہریلے مواد کا جوش بالکل جاتا رہے اور ایک کمزور صحت جو ضعف کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے حاصل ہو جاتی ہے تو پھر دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ وہ ضعیف بیمار زنجبیل کے شربت سے قوت پاتاہے اور زنجبیلی شربت خدا تعالیٰ کے حُسن و جمال کی تجلی ہے جو روح کی غذا ہے ۔ جب اس تجلی سے انسان قوت پکڑتاہے تو پھر بلند اور اُونچی گھاٹیوں پر چڑھنے کے لائق ہو جاتاہے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں ایسی حیرت ناک سختی کے کام دکھلاتاہے کہ جب تک یہ عاشقانہ گرمی کسی کے دل میں نہ ہو ، ہر گز ایسے کام دکھلا نہیں سکتا۔ سو خدا تعالیٰ نے اس جگہ ان دو حالتوں کے سمجھانے کے لئے عربی زبان کے دو لفظوں سے کام لیاہے ۔ ایک کافور جو نیچے دبانے والے کو کہتے ہیں اور دوسرے زنجبیل جو اوپر چڑھنے والے کو کہتے ہیں اور اس راہ میں یہی دو حالتیں سالکوں کے لئے واقع ہیں۔ ۱؎
۱۴؍جولائی ۱۹۰۶ئ
قبل نماز ظہر
بے ثباتی دنیا :۔
ایک معزز خاندانی ہندودیوان صاحب جو صرف حضرت کی ملاقات کے واسطے قادیان آئے تھے قبل نماز ظہرآپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خواہش ظاہر کی کہ ان کو کچھ نصیحت کی جائے ۔
حضرت نے فرمایا:۔
ہرایک شخص کا ہمدردی کا رنگ جدا ہوتاہے ۔ اگر آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں تو وہ آپ کے ساتھ یہی ہمدردی کر سکتا ہے کہ آپ کی کسی بیماری کا علاج کرے اور اگر آپ حاکم کے پاس جائیں تو اس کی ہمدردی یہ ہے کہ کسی ظالم کے ظلم سے بچائے ایسا ہی ہریک کی ہمدردی کا رنگ جد اہے ۔ ہماری طرف سے ہمدردی یہ ہے کہ ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں کہ دنیا
روزے چند ہے ۔ اگر یہ خیال دل میں پختہ ہو جائے تو تمام جھوٹی خوشیاں پامال ہو جاتی اور انسان خدا تعالیٰ کی طرف اپنا دل گلاتا ہے۔ لمبے منصوبے اور ناجائز کارروائیاں انسان اسی واسطے