بھی اپنی کتابوں میں نہیں کرتا اور جو اسلام کا زندہ چہرہ دکھا رہا ہے اور تا زہ بتازہ نشانوں سے اس کی تا ئید کر رہا ہے اور ہر طرح سے اسلام کی مدد کر رہا ہے اور دشمنان اسلام کا دندان شکن جواب دے رہا ہے وہ اس کی نظر میں دجال ہے ۔
صفائی ذہن کے لئے تقویٰ ضروری ہے
سو سمجھنا چاہئے کہ صفائی ذہن بھی تو آخر تقویٰ سے ہی حاصل ہو تا ہے ۔اسی واسطے خدا تعالیٰ فرما تا ہے ۔ الٓمَّ۔ ذٰلِکَ الکِتَابُ لَا رَیبَ فیہِ ھُدًی لّلمُتَّقینَ ( البقرۃ ۲۔۳ ) یعنی یہ کتاب انہیں کو ہدایت نصب کرتی ہے جو تقویٰ اخیتار کرتے ہیں اور جن میں تقویٰ نہیں ۔ وہ تو اندھے ہیں۲؎
اگر کوئی پاک نظر سے اور خدا تعالیٰ کا خوف کر کے اس کو دیکھتا ہے تب تو اس کو سب کچھ اس میں سے نظر آجا تا ہے اور اگر ضد اور تعصب کی پٹی آنکھوں پر باندھی ہوئی ہے تو وہ اس میں سے کچھ بھی نہیں دیکھ سکتا ۔
شیطان کا مغلوب ہونا مسیح موعود ؑ کے ہاتھوں مقدر ہ
یاد رکھنا چاہیے کہ کہ دجال اصل میں شیطان کے مظہر کو کہتے ہیں جس کے معنے ہیں ۔راہ ہدایت سے گمراہ کرنے والا لیکن آخری زمانہ کی نسبت پہلی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس وقت شیطان کے ساتھ بہت جنگ ہوں گے لیکن آخر کا ر شیطان مغلوب ہو جائے گا ۔گوہر نبی کے زمانہ میں شیطان مغلوب ہو تا رہا ہے مگر وہ صرف فرضی طور پر تھا حقیقی طور پر اس کا مغلوب ہونا مسیح کے ہاتھوں سے مقدر تھا اور خدا تعالیٰ نے یہاں تک غلبہ کا وعدہ دیا ہے کہ جَا عِلُ الَّذینَ اتَّبَعُوکَ فَوقَ الَّذینَ کَفَروُااِلٰی یَومِ القِیامۃ ( آل عمران : ۵۶) فرمایا ہے کہ تیرے حقیقی تا بعدار وں کو بھی دوسروں پر قیامت تک غالب رکھو ں گا ۔غرض شیطان اس آخری زمانہ میں پورے زور سے جنگ کر رہا ہے مگر آخری فتح ہماری ہی ہو گی ۔ یہ توتم جانتے ہی ہو اور تمہارے نزدیک یہ ایک معمولی سے بات ہے کہ حضرت عیسٰی مر چکے ہیں اور اس بات میں تم نے ہر طرح سے فتح بھی حا صل کر لی ہے ۱؎