قرآن شریف میں کہاں لکھی ہیں کہ ہمارے
نبی کریم ﷺ تو مر گئے ہیں اور عیسٰی آسمانوں پر زندہ ہیں ۔قران مجید میں تو صاف طور پر عیسی کی موت لکھی ہے اور آیت فلمَّا لَّوَفَّیتَنی ( المائد ۃ : ۱۱۸ ) اسی بات کی شہادت دے رہی ہے ۔ کہ عیسیٰ فوت ہو چکے ہیں تب بشپ صاحب سے اور تو کچھ بن نہ آیا گھبرا کر کہنے لگے ۔‘‘معلوم ہوتا ہے کہ تم مرزائی ہو ‘‘۔ پھر اس کے بعد وہ لو گ جو وعظ سن رہے تھے باہر آکر کہنے لگے کہ ’’ مرزائی ہیں تو کافر مگر آج تو عزت رکھ لی ہے ‘‘
روحانی ہتھیار اب ہمارے پاس ہیں
غرض یا د رکھنا چاہئیے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو اقبال دیتا ہے ہتھیار بھی ساتھ ہی دیتا ہے ۔دیکھو جسمانی طور پر آجکل یورپ کا ہی بول بالا ہے مگر ہر ایک قسم کی عجیب عجیب ہتھیار بھی تو یورپ والوں ن ہی تیار کر رکھے
یہاں تک کہ اگر سلطان روم کو بھی کسی ہتھیار کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ بھی انہیں سے منگوا بھیجتا ہے اسی طرح روحانی ہتھیار اب ہمارے ہاتھ میں ہیں ۱؎ اور جس کے ہاتھ میں ہتھیار نہیں وہ غلبہ کس طرح پا سکتا ہے ۔
اب تم لوگ جہاں جاؤ گے کہو گے کہ عیسٰی مر گیا اور اس کی وفات قرآن مجید میں موجود احادیث صحیحہ میں موجود ہمارے نبی کریم ﷺ نے گواہی دی کہ میں نے معراج کی رات حضرت عیسٰی کو مردوں میں دیکھا اور خود مر کر دکھا دیا کہ مجھ سے پہل جتنے نبی آتے رہے ہیں وہ سب کے سب فوت ہو چکے ہیں ۔
یہ اور ایسے ہی کئی قسم کے اور بھی چمکتے ہوئے دلائل خدا تعالیٰ نے تم لوگوں کے ہاتھوں میں دے دینے ہیں جن کو سن کر مخالفوں کا ناک میں دم آتا ہے ۔
مسلمانوں نے اسلام کے ضعف کو سمجھا ہی نہیں
اصل میں مسلمانوں نے اسلام کے ضعف کو سمجھا ہی نہیں ایک شخص ( عبدالحکم ) ہے جو بیس برس تک میرا مرید رہا ہے اور ہر طرح سے میری تائید کرتا رہا اور میری سچائی پر اپنی خوابیں سناتا رہا ہے ۔ اب مرتد ہو کر اس نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام اس نے میری طرف منسوب کر کے کانا دجال رکھا ہے لیکن اصلی بات یہ ہے کہ اس کو اس بات کی خبر ہی نہیں ہے کہ اسلام کا کیا حال ہو رہا ہے جن لوگوں کے دھوکوں اور فریبوں سے آئے دن لوگ اسلام سے مرتد ہو رہے ہیں وہ تو اس کے نزدیک دجال نہیں ہیں اور ان کا ذکر تک