معمولی سی بات ہے ۔اسی پر تو ہمارے مذہب کا تمام دارومدار ہے ۔۱؎
ایسے ہی دہلی میں جب میں گیا تھا تو بہت سے آدمی جمع ہو کر میر ے پاس آئے اور کہنے لگے کہ حضرت عیسی ٰ زندہ موجو د ہیں اور وہی دوبارہ آئیں گے میں نے اُن سے کہا کہ اچھا تو بتلاؤ کہ سوائے اس کے کہ کئی ہزار آدمی مرتد ہو گئے اور اس کا نتیجہ ہی کیا نکلا ہے اس پر وہ خا موش ہو گئے ۔تب میں نے کہا کہ اچھا اس نسخہ کا تو آپ لوگوں نے تجربہ کر لیا ہے یہ تو غلط نکلا ۔اب ہمارا نسخہ بھی چند روز استعمال کر کے دیکھ لو کہ نتیجہ کیا ہوتا ہے ۲؎ اس پر ایک شخص اُٹھا اور کہنے لگا اسلام کی سچی خیر خواہی جیسی آپ کر رہے ہیں اور کوئی نہیں کر رہا ۔آپ بڑی خوشی سے اس کام میں لگے رہیں ۔
موجود ہ مسلمانوں کے غلط عقاید
غرض مسلمانوں کی عجیب حالت ہو رہی ہے ۔ بات بات میں پچھے جگہ جگہ پر شکست ان کے نزدیک ہمارے نبی کریم ﷺ تو فوت ہو گئے ہیں مگر عیسی ٰزندہ ہیں اور ( نعوذ باللہ ) ہمارے نبی کریم ﷺ تو مس شیطان سے پاک نہیں تھے مگر عیسیٰ پاک تھا اور پھر بے باپ تھا تو عیسی ٰ پرندوں کا خالق تھا تو عیسٰی مردے زندہ کرتا تھا تو عیسٰی آسمان پر چڑھ گیا تھا اور پھر دوبارہ نازل ہو گا تو عیسیٰ اب بتلاؤ سوائے مرتد ہونے کے اس کا اور کیا نتیجہ ہو سکتا ہے ؟ غرض عیسٰی ؑ کی زندگی مرتد کرنے کا آلہ ہے ۔ جو لوگ عیسائی ہو جاتے ہیں تو وہ ایسی ایسی باتیں ہی سن کر ہو جایا کرتے ہیں جن کا میں ذکر کر چکا ہوں ۔
مرزائی تو کافر مگر آج عزت رکھ لی ہے
ایک دفعہ بشپ صاحب لاھور میں لیکچر دے رہے تھے اور اس قسم کی باتیں پیش کرتے تھے کہ محمد ( ﷺ ) صاحب تو فوت ہوچکے ہیں اور ان کی مدینہ میں قبر موجود ہے مگر یسوع مسیح کی نسبت خود مسلمان بھی مانتے ہیں کہ وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں وغیرہ وغیرہ اور پھر کہتے تھے مسلمانو ۔ تم خود منصف بن کے دیکھ لو کہ آیا یہ باتیں سچی ہیں یا ناہیں ؟ تب ہمارے مفتی صاحب آگے بڑھے اور بشپ صاحب کو کہنے لگے کہ بتاؤ یہ باتیں