تھیں اور پھر یہودیوں کے ہاتھ سے ماریں بھی کھاتا پھرتا تھا خدا تجویز کر لیا ہے اور اپنی نجات کے لئے اس کو لعنتی موت سے مراد ہو سمجھ لیا ہے حالانکہ دنیا بھر میں کوئی قاعدہ نہیں کہ سر در تو ہو زید کو اور بکر اپنے سر پر پتھر مار کر پھوڑے اور پھر اس سے زید کی سر درد جاتی رہے ۔ ۱؎ سوچنا چاہئیے کہ گناہ تو کیا زید نے مگ راُس کی جگہ سولی چڑھے یہ کہاں کا انصاف ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ گلے پڑا ڈھول بجا رہے ہیں ورنہ ان کے دل تو اس عقیدہ سے متنفر ہیں اور اب خدا کی طرف سے توحید کی ہوا چل رہی ہے اور بہت سے لوگ اس انسان پر ستی کو چھوڑ ا کر خدا پر ستی اخیتار کر تے جاتے ہیں ۲؎
دجال اور ضا لین ہم معنی ہیں
یہ جو میں نے ضا لین کا ذکر کیا ہے تواس سے مراد تھی پا در ہی لوگ جو نہ صر ف خود گمراہ ہیں بلکہ اوروں کو گمراہ کرنے میں پوری ہمت اور کو شش سے کام لتیے ہیں۔اور یہ جو حدیثوں میں دجال کا ذکر آیا ہے تو اس سے مراد ضا لین ہی ہیں اور اگر دجال کے معنے ضا لین کے نہ لیے جاویں تو ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ نے ضا لین کا ذکر تو قرآن شریف میں کر دیا بلکہ ان کے فتنہ عظیم سے بچنے کے لئے دعا بھی سکھا دی مگر دجال کا ذکر تک بھی نہ کیا حا لانکہ وہ ایک ایسا عظیم فتنہ تھا جس سے لکھو کھہا لوگ گمراہ ہو جانے تھے ۔
غرض سچی بات یہی ہے کہ دجال او رضا لین ایک ہی گروہ کا نام ہے جو لوگوں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں اور اس آخری زمانہ میں اپنے پورے زور پر ہیں اور ہر ایک طرح کے مکر ا اور فریب سے خلقت کو گمراہ کرنے کی کو شش کرتے پھرتے ہیں اور چونکہ دجال کے معنے بھی گمراہ کرنے والے کے ہیں ۔ اسی واسطے احادیث میں یہ لفظ ضا لین کی بجائے بولا گیا ہے ۔
اور احادیث میں ضالین کی بجائے دجال کا لفظ آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ لوگ اپنی طرف سے ایک دجال بنا لیں گے اور عجیب عجیب قسم کے خیالا ت اس کی طرف منسوب کریں گے کہ اس کے ایک ہاتھ میں بہشت ہو گا اور ایک ہاتھ میں دوزخ اور وہ خدائی کو بھی دعویٰ کرے گا ۔اور نبوت کا بھی اور اس کے ماتھے پر کا فر لکھا ہو ا ہوگا اور اس کا ایک گدھا ہو گا جس کے کانوں میں اس قدر فاصلہ ہو گا اور اس میں