یہ لوگ بڑ ے منصف مزاج ہوتے ہیں ۔اگر یہ منصف نہ ہوتے تو حکومت نہ رہتی ۔یاد رکھنا چاہئیے کہ ان کی حکومت کا ہونا بھی خدا تعالیٰ کا ایک خا ص فضل ہے۔ سکھوں کے زمانہ کو دیکھو کہ کوئی اذان بھی دیتا تھا تو قتل کر دتیے تھے ۔مگر اس سلطنت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر طرح سے آزادی ہے اس کا کا ہونا ہمارے لئے بڑی بڑی برکتوں کا موجب ہے ۔ خود ہمارے اس گاؤں قادیان میں جہاں ہماری مسجد ہے کارواں کی جگہ تھی ۔اس وقت ہمارے پچپن کا زمانہ تھا ۔لیکن میں نے معتر آدمیوں سے سنا ہے کہ اجن انگریزوں کا دخل ہو گیا تو چند روز تک وہی سابقہ قانون رہا ۔ انہی ایام میں ایک کاردار یہا ں آیا ہوا تھا اس کے پاس ایک مسلمان سپاہی تھا او مسجد میں آیا اور موذن کو کہا کہ اذان دو ۔ اس نے وہی ڈرتے ڈرتے گنگنا کر اذان دی سپاہی نے کہا کیا تم اسی سے ہانگ دیا کرتے ہو ؟ موذن نے کہا ہاں اسی طرح دیتے ہیں ۔سپاہی نے کہا کہ نہیں ۔کوٹھے پر چڑھ کر اونچی آواز سے اذان دو اور جس قدر زور سے ممکن ہو سکتا ہے بانگ دو ۔ وہ ڈر ا آخر اس نے سپاہی کے کہنے پر زور سے بانگ دی ۱؎ اس پر ہندو اکھٹے ہو گئے اور ملا کو پکڑ لیا ۔وہ بیچارہ بہت ڈر اور گھبرایا ک کاردور مجھے پھانسی دے دے گا ۔سپاہی نے کہا کہ تیرے ساتھ ہوں ۔ آخر وہ اس کو پکڑ کر کاردار کے پاس لے گئے اور کہا کہ مہاراج اس نے ہم کو بھر شٹ کر دیا ہے ۔ کار دار تو جانتا تھا کہ اب سلطلنت تبدیل ہو گئی ہے اور اب وہ سکھا شاہی نہیں رہی ۔اس لئے ذرا دبی زبان سے پوچھا کہ تو نے اونچی آواز سے کیوں بانگ دی ؟سپاہی نے آگے بڑھ کر کہا کہ اس نے نہیں دی میں نے بانگ دی ہے ۔ تب کار دار نے ہندوؤں کو کہا ۔ کمبختوں کیوں شور ڈالتے ہو تو اب کھلے طور پر گائیاں ذبح ہوتی ہیں اور تم اذان کو روتے ہو ۔ جاؤ چپکے ہو کر بیٹھ رہو ۔ ایسے ہی بٹالہ کا واقعہ ہے کہ سیدوہیں کا رہنے والا باہر سے دروازے پر آیا وہاں گائیون کو ہجوم تھا ۔اس نے تلوار کی نوک سے مویشوں کو ذرا ہٹایا ۔ایک گائے چمڑے کی خفیف سی خراش پہنچ گئی تھی اس پر اس