بڑھ گئے تھے۔
مگر وہ کسی کو خدا یا خدا کا بیٹا بنانے کا سخت دشمن تھے ۔۱؎ اور سورۃ فاتحہ میں ان کا نام جو پہلے آیا ہے تو وہ اس واسطے نہیں کہ ان کے گناہ زیا دہ تھے بلکہ اس واسطے کہ اسی دنیا میں ہی ان کو سزا دی گئی تھی اور اس کی مثال اس طرح پر ہے کہ ایک تحصلیدار انہی کو جرمانہ کرتا ہے جن کا قصور اس کے اخیتار سے باہر نہیں ہوتا ۔ مثلاً فرض کرو کہ کسی بھاری سے بھاری گناہ پر وہ اپنی طرف سے ص۵۰۔۶۰ روپیہ جرمانہ کر سکتا ہے لیکن اگر قصور وار زیا دہ کا حقد ار ہو تو پھر تحصیلدار یہ کہہ کر کہ یہ میرے اخیتار سے باہر ہے اور کہ تمہاری سزا کا یہا ں موقع نہیں کسی اعلیٰ افسر کے سپرد کرتا ہے ۔اسی طرح یہودیوں کی شرارتیں اور شوخیاں اسی حد تک ہیں کہ ان کی سزا اسی دنیا میں دی جا سکتی تھی لیکن ضا لین کی سزا یہ دنیا برادشت نہیں کر سکتی کیونکہ ان کا عقیدہ ایسا نفرتی عقیدہ ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے ۔ تکَا دُ السَّمَوٰتُ یَتَفَطَرنَ منہُ وَتَنشَقُ الارضُ وَتَخرُّالجبَا لُ ھَدًّآن دعواللرَّحمنِ وَلَدا ( مریم : ۹۱ ۔ ۹۲ )
یعنی یہ ایک ایسا بُرا کام ہے جس سے قریب ہے کہ زمین آسمان پھٹ جائیں اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں ۔ غرض یہودیوں کی چونکہ سزا تھوڑی تھی اس لئے ان کو اسی جان میں دی گئی اور عیسائیوں کی سز اس قدر سخت ہے کہ یہ جہان اس کی برداشت نہیں کر سکتا ۔ اس لئے ان کی سزا کے واسطے دوسرا جان مقرر ہے اور پھر یہ بات بھی یاد رکھنے والی ہے کہ یہ عیسائی صرف ضال ہی نہیں ہیں بلکہ مضل بھی ہیں ۔ان کا دن رات یہی پیشہ ہے کہ اوروں کو گمراہ کرتے پھریں ۔پچاس پچاس ہزار ساٹھ ساٹھ ہزار بلکہ لاکھوں پرچے روز شائع کرتے ہیں اور اس باطل عقیدہ کی اشاعت کے لئے ہر طرح کے بہانے عمل میں لاتے ہیں ۔
انگریز قوم کی انصاف پسندی
یا د رکھو گورنمنٹ کو ان پا دریوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ایک انگیریز یہا ں آیا تھا ۔جاتی دفعہ پوچھنے لگا کہ میرے راستہ میں کسی پا دری کی کوٹھی تو نہیں ؟ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ پا دریوں سے سخت نفرت کرتا تھا ۲؎