وہی خدا کا سچا مسیح ہے جو اس وقت تمہارے درمیان بول رہا ہے ۔ میسح موعود ؑ کی مخالفت اور تکفیر یا د کھو کہ کہ اللہ تعالیٰ پچیس برس سے صبر کرتا رہا ہے ان لوگوں نے کوئی دقیقہ میری مخالفت کا اُٹھا نہیں رکھا ۔ہر طرح سے شوخیاں کی گئیں ۔ طرح طرح کے الزام ہم پر لگائے گئے اور ان شوخیوں اور شرارتوں میں پوری سر گرمی سے کام لیا گیا ۔ ہر پہلو سے میرے فنا اور معدوم کرنے کے لئے زور لگائے گئے اور ہمارے لئے طرح طرح کے کفر نامے تیار کئے گئے اور نصاری اور یہود سے بھی بدتر ہمیں سمجھا گیا ۔ حالانکہ ہم کلمہ طیبہ لٓا اِلَہَ الَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہِ پر دل وجان سے یقین رکھتے تھے قرآن مجید کو خدا تعالیٰ کی سچی اور کامل کتاب سمجھتے تھے اور سچے دل سے اُسے خاتم الکتب جانتے تھے اور آنحضرت ﷺ کے سچے دل سے خا تم النبین سمجھتے تھے۔وہی قبیلہ تھا ۔اسی طرح سے ماہ رمضان کے روزے رکھتے تھے ۔حج اور زکوۃ میں بھی کوئی فرق نہ تھا پھر معلوم نہیں کہ وہ کونے وجوہات تھے جن کے سبب سے ہمیں یہود اور نصاری سے بھی بد تر ٹھہرایا گیا اور دن رات ہمیں گالیاں دنیا موجب ثواب سمجھا گیا ۔ ۱؎ آخر شرافت بھی تو کوئی چیز ہے ۔ اس طرح کا طریق تو وہی لوگ اخیتار کرتے ہیں جن کے ایمان مسلوب اور دل سیاہ ہو جاتے ہیں ۔ غرض چونکہ خدا جانتا تھا ایک وقت آئے گا جب کہ مسلمان یہود سیرت ہو جائیں گے اس لئے غیرِالمَغضوبِ عَلَیھم والی دعا سکھا دی اور پھر فرمایا ولاَالضَّآلینَ یعنی مذہبی ان لوگوں کی راہ پر چلانا جنہوں نے تیری سچی اور سیدھی راہ سے منہ موڑ لیا اور یہ عیسائیوں کی طرف اشارہ ہے ۔جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انجیل کے ذریعہ سے یہ تعلیم ملی تھی کہ خدا کو ایک اور واحد لاشریک مانو ۔ مگر انہوں نے اس تعلیم کو چھوڑ دیا اور ایک عورت کے بیٹے کو خدا بنا لیا ۔ یہود اور نصاری کا موزانہ کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ مَغضوبِ عَلَیھم بڑا سخت لفظ ہے اور ضا لین نرم لفظ ہے ۔یہ نرم لفظ نہیں بات یہ ہے کہ یہودیوں کا تھوڑا گناہ تھا وہ توریت کے پابند تھے اور اس کے حکموں پر چلتے تھے گو وہ شوخیوں اور شرارتوں میں بہت