آریہ وغیرہ جو اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں خدا تعالیٰ کو غضب ناک کہا گیا ہے یہ ان کی صریح غلطی ہے اُن کو چاہئیے تھا کہ قرآن مجید کی دوسری جگہوں پر بھی نظر کرتے وہاں تو صاف طور پر لکھا ہے ۔عذا۔بَّی اُصِیبُ بہِ من آشَائُ وَرَحمتی وَسعتُ کُلَّ شَییٔ ( الاعراف : ۱۵۷) خدا کی رحمت تو کل چیزوں کے شامل حال ہے ۔مگر ان کو دقت ہے تو یہ ہے کہ خدا کی رحمت کے تو وہ قائل ہی نہیں ۔ اُن کے مذہبی اصول کے بموجب اگر کوئی شخص بصد مشکل کمتی حا صل کر بھی لے تو آخر پھر وہاں سے نکلنا ہی پڑے گا ۔ غرض خوب یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے کلام پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا ۔جیسے خد اہر ایک عیب سے پاک ہے ویسے ہی ا س کا کلام بھی ہر قسم کی غلطی سے پاک ہوتا ہے ۔ یہود کی شوخیاں اور یہ جو فرمایا غیرِ المَغضوبِ عَلَیھم توا س سے مراد ہے کہ یہود ایک قوم تھی جو توریت کو مانتی تھی ۔انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی بہت تکذیب کی تھی اور بڑی شوخی کے ساتھ اُن سے پیش آئے تھے ۔یہاں تک کہ کئی بار ان کے قتل کا ارادہ بھی انہون نے کیا تھا اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب کوئی شخص کسی فن کو کمال تک پہنچادیتا ہے تو پھر وہ بڑا نامی گرامی اور مشہور ہو جاتا ہے اور جب کبھی اس فن کا ذکر شروع ہوتا ہے تو پھر اسی کا نام ہی لیا جا تا ہے ۔مثلاً دنیا میں ہزاروں پہلوان ہوئے ہیں اور اس وقت بھی موجو د ہیں ۔مگر رستم کا ذکر خا ص طور پر کیا جاتا ہے ۔بلکہ اگر کسی کو پہلوانی کا خطاب بھی دیا جتا ہے ۔ تو اُسے بھی رستم ہند وغیرہ کر کے پکارا جاتا ہ ۔یہی حال یہود کا ہے ۔ کوئی نبی نہیں گذرا جس سے انہون نے شوخی نہیں کی اور حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کو تو انہوں نے یہاں تک مخالفت کی کہ صلیب پر چڑھانے سے بھی دریغ نہیں کیا اور ان کے مقابلہ پر ایک شرارت سے کا م لیا ۔ غیرِ المَغضوبِ عَلَیھم والی دعا کی ضرورت ہاں اگر یہ سوال پیدا ہو کہ یہود نے تو انبیاء کے مقابل پر شوخیاں اور شرارتیں کی تھیں مگر اب تو سلسلہ نبوت ختم ہو چکا ہے اس لئے غیرِ المَغضوبِ عَلَیھم ولی دعا کی کوئی ضرورت نہ تھی ۔اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ آخری زمانہ میں مسیح موعود نا زل ہو گا اور مسلمان لو گو اس کی تکذیب کر کے یہود خصلت ہو جائیں گے اور طرح طرھ کی بد کاریوں اور قسم قسم کی شوخیوں اور شرارتوں میں ترقی کر جاویں گے اس لئے غیرِالمَغضوبِ عَلَیھم والی دعا سکھائی گئی کہ اے مسلمانو ۔پنچگانہ نما زوں کی ہر ایک رکعت میں دعا مانگتے رہو کہ یا الہیٰ ہمیں ان کی راہ سے بچائے رکھیو جن پر تیرا غضب اسی دنیا میں نازل ہوا تھا اور جن کو تیرے مسیح موعود کی مخالفت کرنے کے سبب سے طرح طرح کے آفات ارضی وسماوی کا ذائقہ چکھنا پڑا تھا ۔سو جاننا چاہییے کہ یہی وہ زمانہ ہے جس کی طرف آیت غیرِ المَغضوبِ عَلَیھم اشارہ کرتی ہے ۔ اور