ایسے لوگ جو خدا میں محو ہیں خدا تعالیٰ نے اُن کو وہ شربت پلایا ہے جس نے ان کے دل اور خیالات اور ارادات کو پاک کر دیا۔ نیک بندے وہ شربت پی رہے ہیں جس کی ملونی کا فور ہے وہ اس چشمہ سے پیتے ہیں جس کو وہ آپ ہی چیرتے ہیں۔ اور میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ کافور کا لفظ اس واسطے اس آیت میں اختیار فرمایا گیا ہے کہ لغتِ عرب میں کفر دبانے اور ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔ سو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے ایسے خلوص سے انقطاع اور رجوع الی اللہ کا پیالہ پیاہے کہ دُنیا کی محبت بالکل ٹھنڈی ہوگئی ہے ۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ تمام جذبات دل کے خیال سے ہی پیدا ہو تے ہیں اور جب دل ان نالائق خیالات سے بہت ہی دور چلا جاوے اور کچھ تعلقات ان سے باقی نہ رہیں تو وہ جذبات بھی آہستہ آہستہ کم ہونے لگتے ہیں یہاں تک کہ نابود ہو جاتے ہیں ۔ سو اس جگہ خدا تعالیٰ کی یہی غرض ہے اور وہ اس آیت میں یہی سمجھا تا ہے کہ وہ اس کی طرف کامل طور سے جھک گئے ۔ وہ نفسانی جذبات سے بہت ہی دور نکل گئے اور ایسے خدا تعالیٰ کی طرف جھکے کہ دنیا کی سرگرمیوں سے اُن کے دل ٹھنڈے ہوگئے اور ان کے جذبات ایسے دب گئے جیسا کہ کافور زہریلے مادوں کو دبا دیتاہے اور پھر فرمایا کہ وہ لوگ اس کافوری پیالہ کے بعد وہ پیالے پیتے ہیں جن کی ملونی زنجبیل ہے۔ اب جاننا چاہیئے کہ زنجبیل دو لفظوں سے مرکب ہے یعنی زَنَا اورجبل سے اور زنا لغتِ عرب میں اُوپر چڑھنے کو کہتے ہیں کہ جبل پہاڑ کو ۔ اس کے ترکیبی معنی یہ ہیں کہ پہاڑ چڑھ گیا ۔ اب جاننا چاہیئے کہ انسان پر ایک زہریلی بیماری کے فرو ہونے کے بعد اعلیٰ درجہ کی صحت تک دو حالتیں آتی ہیں۔ ایک وہ حالت جبکہ زہریلے مواد کا جوش بکلی جاتا رہتاہے اور خطرناک مادوں کا جوش روبا صلاح ہو جاتاہے اور سمی کیفیات کا حملہ بخیروعافیت گذر جاتاہے اور ایک مہلک طوفان جو اُٹھا تھا نیچے دب جاتاہے ، لیکن ہنوز اعضاء میں کمزوری باقی ہوتی ہے کوئی طاقت کاکام نہیں ہو سکتا۔ ابھی مردہ کی طرح افتاں دخیزاں چلتاہے ۔ دوسری وہ حالت ہے کہ جب اصل صحت عود کر آتی ہے اور بدن میں طاقت بھر جاتی ہے اور قوت کے بحال ہونے سے یہ حوصلہ پیدا ہو جاتاہے کہ بلا تکلف پہاڑ کے اوپر چڑھ جاوے اور نشاط خاطر سے اونچی گھاٹیوں پر دوڑتا چلا جاوے ۔ سو سلوک کے تیسرے مرتبہ میں یہ حالت میسر آتی ہے ۔ ایسی حالت کی نسبت اللہ تعالیٰ آیت موصوفہ میں اشارہ فرماتا ہے کہ انتہائی درجہ کے باخدا لوگ وہ پیالے پیتے ہیں جن میں زنجبیل ملی ہوئی ہے یعنی وہ روحانی حالت کی پوری قوت پاکر بڑی بڑی گھاٹیوں پر چڑھ جاتے ہیں اور بڑے مشکل کام اُن کے ہاتھ سے انجام پذیر ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی راہ میں حیرت ناک جانفشانیاں دکھلاتے ہیں۔ اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ علم طب کی روسے زنجبیل وہ دوا ہے جسے ہندی میں سونٹھ کہتے ہیں۔ وہ حرارتِ غریزی کو بہت قوت دیتی ہے اور دستوں کو بند رکتی ہے اور اس کا زنجبیل اسی واسطے نام رکھا گیا ہے کہ گویا وہ