کا راستہ دکھانا جو کہ راہ راست سے گمراہ ہو گئے اور یہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے یہ بطور قصہ یا کتھا کے بیان نہیں کیا بلکہ وہ جانتا تھا کہ جس طرح پہلی قوموں نے بد کاریاں کیں اور نبیوں کی تکذیب اور تفسیق میں حد سے بڑھ گئیں ۔
اسی طرح مسلمانوں پر بھی ایک وقت آئے گا جب کہ وہ فسق وفجور سے حد سے بڑھ جاویں گے اور جن کاموں سے ان قوموں پر خدا تعالیٰ کا غضب بھڑکا تھا ویسے ہی کام مسلمان بھی کریں گے اور خدا تعالیٰ کا غضب اُن نازل ہو گا
تفسیروں اور احادیث والوں نے مغضوب سے یہود مراد لیے ہیں ۔ کیونکہ یہود نے خدا تعالیٰ کے انبیاء کے سا تھ بہت ہنسی ٹھٹھا کیا تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خا ص طور پر دکھ دیا تھا اور نہایت درجہ کی شوخیاں اور بے باکیاں انہوں نے دکھائی تھیں جن کا آخری نیتجہ یہ ہوا تھا کہ اسی دنیا میں ہی خدا تعالیٰ کا غضب ان پر نازل ہوا تھا ۔
خدا تعالی ٰ کے غضب کی حقیقت
مگر اس کی جگہ خدا کے غضب سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ ( معاذ اللہ ) خدا چڑ جاتا ہے بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان بسبب اپنے گناہوں کے نہایت درجہ کے پاک اور قدوس خدا سے دور ہو جا تا ہے یا مثال کے طور پر یوں سمجھ لو کہ ایک شخص کسی ایسے حجرہ میں بیٹھا ہوا ہو جس کے چار دروازے ہوں ۔ اگر وہ ان دروازے بند کر دے گا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ روشنی کا آنا بند ہو جائے گا ۔غرض یہ بات سچی ہے کہ جب انسان کوئی فعل کرتا ہے تو سنت اللہ اس طرح سے ہے کہ اس فعل پر ایک فعل خدا تعالی کا فعل یہ تھا کہ اس مکان میں اندھیرا ہی ہو گیا ۔غرض اس اندھیرا کرنے کا نام خدا کا غضب ہے ۔
یہ مت سمجھو کہ خدا تعالیٰ کا غضب بھی اس طرح کا ہوتا ہے کہ جس سے انسان کا غضب ہوتا ہے ۔کیونکہ خدا خدا ہے اور انسان ہے ۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ جس طرح سے ایک انسان کام کرتا ہے خدا بھی اسی طرح سے ہی کرتا ہے مثلاً خدا سنتا ہے تو کیا اس کو سننے کے لئے انسان کی طرح ہوا کی ضرورت ہے اور کیا اس کا سننا بھی انسان کی طرح سے ہے کہ جس طرح ہوا کا رخ زیا دہ ہوا ۔اُس طرف کی آواز کو زیادہ سن لیا ۔ یا مثلاً دیکھنا ہے کہ جب تک سورج چاند چراغ وغیرہ کی روشنی نہ ہو انسان دیکھ نہیں سکتا تو کیا خد ا بھی روشنیوں کا محتاج ہے ؟ غرض انسان کا دیکھنا اور رنگ کا ہے اور خدا کا دیکھنا اور رنگ کا ہے ۔اس کی حقیقت خدا کے سپر د کرنی چاہییے ۔۱؎