جس کا اثر روح اور وجود دونوپر پڑتا ہے ۔ ایک شخص جو کھیت کی آبیاشی کرتا اور بڑی محنت سے اس میں بیج بوتا ہے اگر ایک دہ ماہ تک اس میں انگور ی نہ نکلے تو مانتا پڑتا ہے کہ بیج خراب ہے یہی حال عبادات کا ہے اگر ایک شخص خدا کو وحدہ لا شریک سمجھتا ہے ۔نما زیں پڑھتا ہے روزے رکھتا ہے اور بظاہر نظر احکام الٰہی کو حتی الوسیع بجا لاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی خا ص مدد اس کے شامل حال نہیں ہوتی تو ماننا پڑتا ہے کہ جو بیج وہ بو رہا ہے وہی خراب ہے ۔
یہی نمازیں تھیں جن کو پڑھنے سے بہت سے لوگ قطب اور ابدال بن گئے مگر تم کو کیا ہوگیا جو با وجود اُن کے پڑھنے کے کوئی اثر ظاہر نہیں ہوتا ۔۱؎
یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب تم کوئی دو ا استعمال کرو گے اور اگر اس سے کوئی فائدہ محسوس نہ کرو گے تو آخر ماننا پڑے گا کہ یہ دو اموافق نہیں یہی حال ان نمازوں کا سمجھنا چاہئیے ۔
؎ برکریماں کا رہا دشوار نیست
حقیقی مومن کبھی ضائع نہیں ہوتا
جو شخص سچے جوش اور پورے صدق اور اخلاص سے اللہ تعالیٰ کی طرف آتا ہے وہ کبھی ضا ئع نہیں ہوتا ۔یہ یقینی اور سچی بات ہے کہ جو خدا کے ہوتے ہیں خدا ان کا ہوتا ہے اور ہر ایک میدان میں ان کی نصرت اور مد د کرتا ہے بلکہ ان پر اپنے اس قدر انعام واکرام نا زل کرتا ہے کہ لوگ ان کے کپڑوں سے بھی برکتیں حاصل کرتے ہیں ۲؎ اللہ تعالیٰ نے یہ جو دعا سکھائی ہے تو یہ اس واسطے ہے کہ تم لوگوں کی آنکھ کھلے کہ جو کام تم کرتے ہو دیکھ لو کہ اس کا نتیجہ کیا ہوا ہے ۔ اگر انسان ایک عمل کرتا ہے اور اس کا نتیجہ نہیں تو اس کو اپنے اعمال کی پڑتال کرنی چاہئیے کہ وہ کیسا عمل ہے جس کا نیتجہ کچھ نہیں ۔
سورۃ فاتحہ میں ایک پیشگوئی
پھر اس کے آگے خدا فرماتا ہے غیر المغُضوبِ عَلَیھم وَلَا الضٓالینَ ( الفاتحۃ : ۷) یعنی اے مسلمانو تم خدا سے دعا مانگتے رہو کہ یا الہی ہمیں ان لوگوں میں سے نہ بنانا جن پر اس دنیا میں تیرا غضب نا زل ہوا ہے اور نہ ہی ان لوگوں