جو نہ تو عیسائیوں کے خدا کی طرح کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے اور نہ ہی وہ ایسا کہ آریوں کے پر میشر کی طرح ہو مکتی دینے پر ہی قادر نہ ہو اور جھوٹے طور پر کہہ دتیا ہے کہ عمل محدود ہیں ۔حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ اس میں نجات دینے کی طا قت ہی نہیں کیونکہ روحیں تو اس کی بنائی ہوئی نہیں ۔جیسے وہ آپ خود بخود ہے ویسے ہی ارواح بھی خو د بخود ہیں ۔یہ تو ہی نہیں سکتا کہ او رروحیں پیدا کر لے اس لئے یہ سوچ کر کہ ہمیشہ کے لئے کسی روح کو مکتی دی جا وے تو آہستہ آ ہستہ وہ وقت آجاوے گا کہ تمام روحیں مکتی یافتہ ہو کر میرے قبضہ سے نکل جا ویں گی ۔ جس سے یہ تمام بنا بنایا کار خانہ در ہم برہم ہو جائے گا ۔ اس لئے وہ بہانہ کے طور پر ایک گناہ ان کے ذمہ رکھ لیتا ہے اور اس دور کو چلائے جاتا ہے ۔۲؎ اسلام کا قدوس اور قادر خدا لیکن اسلام کا خدا ایسا قدوس اور قادر خدا ہے کہ اگر تمام دنیا مل کر اس میں کوئی نقص نکالنا چاہے تو نہیں نکال سکتی ہمارا خدا تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا خدا ہے۔وہ ہر ایک نقص اور عیب سے مبرا ہے کیونکہ جس میں کوئی نقص ہو وہ خدا کیونکر ہو سکتا ہے اور اس سے ہم دعائیں کس طرح مانگ سکتے ہیں ۔اور اس پر کیا اُمیدیں رکھ سکتے ہیں ۔وہ تو خود نا قص ہے نہ کہ کامل ۔لیکن اسلام نے وہ قادر اور ہر ایک عیب سے پاک خدا پیش کیا ہے جس سے ہم دعائیں مانگ سکتے ہیں اور بڑی بڑی اُمیدیں پوری کر سکتے ہیں اسی واسطے اس نے اسی سور ہ فاتحہ میں دعا سکھائی ہے کہ تم لوگ مجھ سے مانگا کرو ۔ اِھدَنَا الصّرَاطَ المُستَقِیم صرَاطَ الَّذینَ اَنعمتَ عَلَیھم یعنی یا الہی ہمیں وہ سیدھی راہ دکھا جو اُن لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرے بڑے بڑے فضل اور انعام ہوئے اور یہ دعا اس واسطے سکھائی کہ تا تم لوگ صرف اس بات پر ہی نہ بیٹھ رہو کہ ہم ایمان لے آئے ہیں بلکہ اس طرح س اعمال بجا لاؤ کہ ان انعاموں کو حاصل کر سکو جو خدا تعالیٰ کے مقرب بندوں پر ہوا کرتے ہیں ۔ رسمی عبادات بعض لوگ مسجدوں میں بھی جاتے ہیں ۔نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور دوسرے ارکان اسلام بھی بجا لاتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی نصرت اور مدد ان کے شامل حال نہیں ہوتی اور اُن کے اخلاق اور عادات میں کوئی نمایاں تبدیلی دکھائی نہیں دیتی جس سے معلوم ہو تا ہے کہ اُن کی عبادتیں بھی رسمی عبا دتیں ہیں ۔حقیقت کچھ بھی نہیں ۔کیونکہ احکام الہیٰ کا بجا لانا تو ایک بیج کی طرح ہوتا ہے