ہوا تھا ۔۱؎
اور اگر راضی تھا تو ماننا پڑے گا کہ اس کو ان کے گناہوں کی خبر نہ تھی کیونکہ جب اُسے خبر ہوئی تھی تب تو اس نے اُن کو مکتی خانہ سے باہر نکال دیا تھا ۔لیکن بعض آریہ اس کا یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ ان کو مکتی خانہ سے اس واسطے نکالا گیا تھا کہ اُن کے عمل محدود تھے اور چونکہ عمل ممدود تھے ۔اس لئے ان کا پھل بھی محدود ہونا چاہے لیکن ان کو اتنی خبر نہیں کہ ان بیچاروں نے جو پرمیشر کی راہ میں ایسی ایسی سختیاں جھیلی تھیں اور اپنا ہر ایک ذرہ اس کی راہ میں قربان کر دیا تھا تو وہ اسے واسطے نہیں تھا کہ چند دن تک توہمیں مکتی خانہ سیر کر الو اور اس کے بعد جس گندی سے گندی جون میں چاہو بھیجدو ۔ان کی نیتوں کو دیکھنا چاہئیے اگر ان کی منتیں صرف اس قدر تھیں کہ دو چار برس پر میشر سے محبت کر کے پھر چھوڑ دیں گے تو ایک بات ہے ورنہ انَّمَا الآ عمَالُ بالنیَّاتِ
ان مکتی یا فتوں کا کیا قصور ؟ یہ تو پر میشر کا قصور ہے کہ ان کو مار دیا ۔ کیونکہ اگر وہ زندہ رہتے تو پر میشر کی محبت کو کبھی نہ چھوڑتے ۔انہوں نے تو صرف اس واسطے پر میشر کی راہ میں مصائب شدائد برادشت کئے تھے کہ جب تک ہم رہیں گے پر میشر کے ہو کر رہیں گے ان کو پر میشر کی بیوفائی کا تو خیال نہ تھا ایک شخص کسی سے بہت محبت رکھتا ہے اور آگے پیچھے اس کی محبت کے گن گاتا پھرتا ہے اگر وہ مر جائے تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ دشمنی بھی ساتھ لے گیا ہے ۔
اور پھر اس بات کو بھی سمجھنا چاہیے کہ مکتی خانہ سے باہر نکالنے کے لئے جوگناہ پر میشر نے انکے ذمہ رکھے ہوتے ہو نگے وہ بہر صورت ایک قسم کے ہو نگے ۔یہ تو جائز نہیں کہ کسی کو کسی گناہ سے نکال دیا جاوے اور کسی کو کسی گناہ کے سبب سے لیکن کیا یہ انصاف ہے کہ باہر نکالتے وقت باجود ایک ہی قسم کے گناہ ہونے کے کسی کو مرد اور کسی عورت اور کسی کو گدھا اور کسی کو بندر بنا دیا ۔
سورۃ فاتحہ میں مذکور اللہ تعالیٰ کی صفات
غرض قصہ کو تاہ اللہ تعالیٰ نے الحمد شریف میں اپنی صفات کاملہ کا بیان کر کے ان مذاہب باطلہ کا رد کیا ہے جو عام طور پر دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ۔
یہ سورۃ جو اُم الکتاب کہلاتی ہے اسی واسطے پانچوں وقت ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے کہ اس میں مذہب اسلام کی تعلیم موجو دہے اور قرآن مجید کا ایک قسم کا خلاصہ ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی چار صفات بیان کر کے ایک نظارہ دکھانا چاہا ہے اور بتایا کہ اسلام نہایت ہی مبارک مذہب ہے ۔ جو اس کی طرف رہبری کرتا ہے