یقین کرتے تھے ۔اسی سے ان کا حیققی تعلق تھا اور اسی کے عشق میں وہ ہر وقت محو اور گداز رہتے تھے ۔ خدا تعالیٰ سے محبت رکھنے والوں کو اس کی نصرت حا صل ہوتی ہے جب ایسی حالت ہو تو قدیم سے یہ سنت اللہ ہے کہ ایسے شخص کی خدا تعالیٰ تا ئید اور نصرت کرتا ہے اور غیبی طور پر اسے مد د دیتا ہے اور ہر ایک میدان میں اُسے فتح نصیب کرتا ہے ۔دیکھو مذہب السلام میں ہزاروں اولیاء گذرے ہیں ۔ہر ایک ملک میں ایسے چار پانچ لوگ تو ضرورہی ہو تے ہیں۲؎؎ جن کو اس وقت تک لوگ بڑی عزت سے یاد کرتے ہیں اور ان کے مجاہدات اور کرامات کا عجیب عجیب طرح سے تذکرہ کرتے ہیں اور دہلی کا تو ایک بڑا میدا ن اسی قسم کے بزرگوں سے بھرا پڑا ہے ۔ غرض سوچنا چاہیے کہ اگر انسان ایک ڈاکو اور چور سے دلی محبت رکھے تو اگر وہ چور زیادہ احسان نہ کرے گا تو اتنا ضرور کریگا کہ اس کی چوری نہ کر یگا ۔تو اب سمجھنا چاہیے کہ جب محبت کرنے سے چوروں اورڈاکوؤں سے بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے تو کیا خدا سے فا ئدہ نہیں ہوتا ؟ ہوتا ہے اور ضرور ہوتا ہے کیونکہ خدا تو بڑا رحیم کریم اور بڑے رحیم کریم اور بڑے فضلوں اور احسانوں والا ہے ۔جو لوگ کرموں اورگون جو نوں کی راہ لیے بیٹھے ہیں میرا یقین ہے کہ ان کو اس راہ کا خیال تک بھی نہیں ۔ جب محبت کے ثمرات اسی دنیا میں پائے جاتے ہیں اور جب ایک شخص کو دوسرے سے سچی اور خا لص محبت ہوتی ہے تو وہ اس سے کوئی فرق نہیں کرتا ۔تو کیا خدا ہی ایسا ہے کہ جس کی دوستی کسی کام نہیں آتی ؟ ہندوؤں کا نظریہ نجات وہ لوگ قابل الزام ہیں جو خدا کو شرم ناک الزاموں سے یاد کرتے ہیں ۔مثلاً ہندوؤں اور آریوں میں دائمی مکتی نہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ مکتی خانہ میں داخل کرتے وقت ایک گناہ پر میشر باقی رکھ لیتا ہے اور پھر ایک وقت کے بعد اس ایک گناہ کے عوض میں ان رشیوں منیوں اور مکتی یا فتوں کو گدھوں بندوں اور سوروں وغیرہ کی جو نوں میں بھیجتا ہے مگر اس پر سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اگر یہ میشر ان مقدموں پر ناراض تھا اور جان بوجھ کر اُن کو مکتی خانہ سے نکالنا چاہتا تھا تو پھر پہلے ہی ان کو مکتی خانہ میں کیوں داخل کیا ؟ آخر اُن پر راضی ہی ہو گا تو داخل کیا تھا ۔یہ تو نہیں کہ اندھا دھند ہی مکتی خانہ میں دھکیل دیا تھا لیکن رضا اور گناہ اکٹھے نہیں رہ سکتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پر میشر ان پر پہلے ہی راضی نہیں