اس جگہ سے بینائی لے جائے گا وہی بینا ہوگ ۔ مومن کا فرض :۔ پھر اس کے آگے خدا تعالیٰ نے ایک دعا سکھلائی ہے کہ ۔اھدِنَا الصّرَاطَ المُستَقِیمَ صِرَاطَ الَّذینَ اَنعَمت عَلیھم ( الفاتحہ :۶۔۷) یعنی اے خدا کہ تو رب العالمین ۔رحمن ۔رحیم اور مالک یوم الدین ہے ہمیں وہ راہ دکھا جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیر بے انہتا فضل ہو اور تیرے بڑے بڑے انعام اکرام ہوئے ۔مومن کو چاہئیے کہ ان چار صفات والے خدا کا صرف زبانی اقرار ہی نہ کرے بلکہ اپنی ایسی حالت بناوے جس سے معلوم ہو کہ وہ صرف خدا کو ہی اپنا رب جانتا ہے ۔زید عمر و کو نہیں جانتا اور اس بات پر یقین رکھے کہ در حقیقت خدا ہی ایسا ہے جوعملوں کء جزا سزا دتیا ہے اور پوشیدہ سے پوشیدہ اور نہاں در نہاں گناہوں کو جانتا ہے ۔۱؎ عملی حالت کی اہمیت یا د رکھو کہ صرف زبانی باتوں سے کچھ نہیں ہوتا ۔جب تک عملی حا لت درست نہ ہو ۔جو شخص حیققی طور پر خدا کو ہی اپنا رب اور مالک یوالدین سمجھتا ہے ممکن ہی نہیں کہ وہ چوری بد کار ۔قمار بازی یا دیگر افعال شنیعہ کا مرتکب ہو کسے ۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ سب چیزیں ہلاک کر دینے والی ہیں اور ان پر عملدر آمد کرنا خدا تعالیٰ کے حکم کی صریح نا فرمانی ہے ۔ غرض انسان جب تک عملی طور پر ثابت نہ کر دیوے کہ ہو حقیقت میں خدا پر سچا اور پکا ایمان رکھتا ہے تب تک وہ فیوض اور برکا ت حاصل نہیں ہو سکتے جو مقربوں کو ملا کرتے ہیں ۔ وہ فیوض جو مقربان الہیٰ اور اہل اللہ پر ہوتے ہیں وہ صرف اسی واسطے ہوتے ہیں کہ ان کی ایمانی اور عملی حالتیں نہایت اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہیں اور انہوں نے خدا تعالیٰ کو ہر ایک چیز پر مقدم کیا ہوا ہوتا ہے ۔ سمجھنا چاہیے کہ اسلام صرف اتنی بات کا ہی نام نہیں ہے کہ انسان زبانی طور پر تائید اور نصرت شامل حال ہونے لگے اور انعام واکرام واردہوں ۔جس قدر انبیاء اولیاء گذرے ہیں ان کی عملی حالتیں نہایت پاک صاف تھیں اور ان کی راستبازی اور دیا نتداری اعلیٰ پایہ کی تھی اور یہی نہیں کہ جسے لوگ احکام الہیٰ بجا لاتے ہیں اور روز ے رکھتے اور زکوٰتیں ادا کرتے ہیں ۔ اور نمازوں میں رکوع سجود کرتے اور سورۃ فاتحہ پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے تھے اور احکام الہیٰ بجا لاتے تھے بلکہ ان کی نظر میں تو سب کچھ مردہ معلوم ہوتا تھا اور ان کے وجودوں پر ایک قسم کی موت طاری ہو گئی تھی ۔ ان کی آنکھوں کے سامنے تو ایک خدا کا وجود ہی رہ گیا تھا ۔ اسی کو وہ اپنا کار ساز اور حقیقی رب