ہی خدا بھی عرش پر جلوہ گر ہے ۔جس سے لازم آتا ہے کہ محدود ہے ۔لیکن ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن مجید میں اس با ت کا ذکر تک نہیں کہ عرش ایک تخت کی طرح ہے جس پر خدا بیٹھا ہے کیونکہ نعوذ باللہ اگر عرش سے مراد ایک تخت لیا جاوے جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے تو پھر ان آیات کا ترجمہ کیا جاوے گا ۔جہاں لکھا ہے کہ خدا ہر ایک چیز پر محیط ہے اور جہاں تین ہیں وہاں چوتھا اُن کا خدا ۱؎ ۔ اور جہاں چا ر ہیں وہاں پانچواں ان کا خدا ۲؎ اور پھر لکھا ہے نَحن آقربُ الیہ من حبلِ الوَرید ( قَ: ۱۷ ) اور وَھُوَ مَعَکُم آینَ مَا کنتُم ( الحدید :۵ ) غرض اس بات کو اچھی طرح سے یاد رکھنا چاہیے کہ کلام الہیٰ میں استعارت بہت پائے جاتے ہیں ۔چنانچہ ایک جگہ دل کو بھی عرش کہا گیا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی تجلی بھی دل پر ہوتی ہے اور ایسا ہی عرش اس وراء مقام کو کہتے ہیں جہاں مخلوق کا نقطہ ختم ہو جاتا ہے ۔ اہل علم ا س بات کو جانتے ہیں کہ تشبیہ ہوتی ہے اور ایک تنز یہ ہوتی ہے مثلاً یہ بات کہ جہاں کہیں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں پانچ ہوں وہاں چھٹا ان کا خدا ہوتا ہے ۔ ایک قسم کی تشبیہ ہے جس سے دھو کا لگتا ہے کہ کیا خدا پھر محدود ہے ۔اس لیے اس دھوکا دور کرنے کے لئے بطور جواب کے کہا گیا ہے وہ عرش پر ہے جہاں مخلوقات کا دارئرہ ختم ہو جاتا ہے اور وہ کوئی اس قسم کا تخت نہیں ہے جو سونے چاندی وغیرہ کا بنا ہوا اور اس پر جواہرات وغیرہ جڑے ہوئے ہوں بلکہ وہ تو ایک اعلیٰ ارفع اور وراء الوراء مقام ہے اور اس قسم کے استعارات قرآن مجید میں بکثر ت پائے جا تے ہیں جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مَن کَانَ فی ھٰذہِٓ آعمٰی فَھُوَ فی الاٰخرَۃِ آعمی وَآضَلُّ سَبیلاً ( بنی اسرئیل ‘۷۳) ظاہراً تو اس کے معنے یہی ہیں کہ جو اس جگہ اندھے ہیں وہ آخرت کو بھی اندھے ہی رہیں گے ۔ مگر یہ معنے کون قبول کرے گا جب دوسری جگہ صاف طور پر لکھا ہے کہ خواہ کوئی سوجا کھا ہو خواہ اندھا جو ایمان اور اعمال صالحہ کے سا تھ جاوے گا وہ تو بینا ہوگا لیکن جو اس جگہ ایمانی روشنی سے بے نصیب رہے گا اور خدا کی معرفت حا صل نہیں کریگا ۔ وہ اخر کو بھی اندھا ہی رہے گا ۔کیونکہ یہ دنیا مزرعہ آخرت ہے جو کچھ کوئی یہاں بوئے گا وہی کاٹے گا اور جو