غرض یہ با ت یاد رکھنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے فعل دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ ہیں جن میں اعمال کا کوئی دخل نہیں جیسے سورچ چاند ہوا وغیرہ جو خدا تعالیٰ نے بغیر ہمارے کسی عمل کے ہمارے وجود میں آنے سے بھی پیشتر اپنی قدرت کا ملہ سے تیار کر رکھے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جن میں اعمال کا دخل ہے اور عابد زاہد اور پرہیز گار لوگ عبادت کرتے اور پھر اپنا اجر پاتے ہیں ۔ سورۃ فاتحہ میں غلط عقائد کی تروید ۱ ) اب تین فرقوں کی با بت تو تم سن چکے ہو یعنی ایک فرقہ تو وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کو رب نہیں سمجھتا اور ذرہ ذرہ کو اس کا شریک ٹھہراتا ہے اور یہ مانتا ہے کہ ارواح اور ذرات عالم کا پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی طاقت سے باہر ہے اور جیسے خو د بخود خدا ہے ویسے ہی وہ بھی خود بخود ہیں اس لئے رب العالمین کہہ کر اس فرقہ کی تروید کی گئی ہے ۔ (۲) دوسرا فرقہ وہ ہے جو سمجھتا ہے کہ خدا اپنے نفس سے کچھ نہیں دے سکتا جو کچھ بھی ہمیں ملا ہے اور ملے گا وہ ہمارے اپنے کرموں کا پھل ہے اور ہوگا ۔اس لئے لفظ رحمن کے ساتھ ا س کا رد کیا گیا ہے ۔ (۳) اور اس کے بعد الرحیم کہہ کر اس فرقہ کی تردید کی گئی ہے جو اعمال کو غیر ضروری خیا ل کرتے ہیں ۔ ( ۴) اب ان تینوں فرقوں کا بیا ن کر کے فرمایا مالک یوم الدین یعنی اجر سزا کے دن کا مالک اور اس سے اس گروہ کی تروید مطلوب ہے جو کہ سزا کا قائل نہیں ۔ کیونکہ ایسا ایک فرقہ بھی دنیا میں موجو ہے جو جز سزا کا منکر ہے ۔ جو لوگ خدا کو رحیم نہیں مانتے ان کو تو بے پروا بھی کہہ سکتے ہیں مگر جو مالک یو م الدین ولی صف کو نہیں مانتے وہ تو خدا تعالیٰ کی ہستی سے بھی منکر ہوتے ہیں اور جب خدا کی ہستی ہی نہیں جانتے تو پھر جزا سزا کس طرح مانیں ۔ غرض ان چارصفات کو بیان کر کے خدا تعالیٰ فرما تا ہے کہ اے مسلمانوں تم کہو ایاک نَعبُدُ وایَّاکَ نستَعینَ َ یعنی اے چار صفتوں والے خدا ۔ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور اس کام کے لئے مدد بھی تجھ سے ہی چاہتے ہیں اور یہ جو حدیث شریف میں آیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے عرش کو چار فرشتوں نے اُٹھایا ہوا ہے اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس کی ان چاروں صفات کا ظہور موجود ہے اور اگر یہ چار نہ ہوں یا چاروں میں سے ایک نہ ہو تو پھر خدا کی خدائی میں نقص لازم آتا ہے ۔ عرش کی حقیقت :۔ اور بعض لو گ نہ سمجھی سے عرش کو جو ایک مخلوق چیز مانتے ہیں تو وہ غلطی پر ہیں اُن کو سمجھنا چاہئیے کہ عر ش کوئی ایسی چیز نہیں جس کو مخلوق کہہ سکیں ۔ وہ تو تقدس اور تننزہ کا ایک دراء الور اء مقام ہے ۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ جیسے ایک بادشاہ تخت پر بیٹھا ہو ا ہوتا ہے ویسے