سے اور اگر ضروری اشیاء حیوانات نباتا ت وغیرہ بنے ہیں تو وہ بھی اپنے اپنے کرموں کی وجہ سے ۔الغرض یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت رَحمن سے منکر ہیں۔وہ خدا جس نے زمین ۔سورج ۔چاند ستارے وغیرہ اشیاء پیدا کیں اور اس وقت پید اکیں جب کہ ابھی سانس لینے والوں کو وجود اور نام ونشان بھی نہ تھا۔تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے ہی اعمال کی وجہ سے پیدا کیا گیا ہے ۔کیا کوئی اپنے اعمال کا دم مار سکتا ہے ؟ کیا کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ ہے سورج چاند ستارے ہو ا وغیرہ میر ے اپنے عمال کا دم مار سکتا ہے ؟ کیا کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ یہ سورج چاند ستارے ہو ا وغیرہ میرے اپنے عملوں کا پھل ہے ۱؎ غرض خد ا کی صفت رحمانیت اس فرقہ کی تروید کر تی ہے جو خدا کو بلا مبادلہ یعنی بغیر ہماری کسی محنت اور کو شش کے بعض اشیاء کے عنایت کرنے والا نہیں مانتے ۔
اعمال اور مجاہدات کی ضرورت
اس کے بعد خدا تعالی ٰ کی صفت آلرَّحمن کا بیان ہے یعنی محنتوں کو ششوں اور اعمال پر ثمرات حسنہ مرتب کرنے والا ۔
یہ صفت اس فرقہ کو رد کرتی ہے جو اعمال کا بالکل لغوخیال کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ میاں نما ز کیا روزے کیا ؟ اگر غفور رحیم نے اپنا فضل کیا تو بہشت میں جائیں گے نہیں تو جہنم میں ۔اور کبھی کبھی یہ لوگ اس قسم کی باتیں بھی کہہ دیا کرتے ہیں کہ میاں عبادتیں کر کے ولی تو ہم نے تھوڑا ہی بننا ہے ۔ کچھ کیتا کیتا نہ کیتا نہ سہی ‘‘ کہہ کر خدا ایسے ہی لوگوں کا رد کرتا ہے اور بتایا ہے کہ جو محنت کرتا ہے اور خدا کے عشق اور محبت میں محور ہو جاتا ہے وہ دوسروں سے ممتا ز اور خدا کا منظور نظر ہو جاتا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی خود دستگیری کرتا جیسے فرما یا ۔والَّذین جَاھَدُو وفِینا لَنَھدِ ینَّھم سُبُلَناَ( العنکوت : ۸۰ ) یعنی وہ لوگ ہماری خا طر مجاہدات کرتے ہیں ۔آخر ہم ان کو اپنا راستہ دکھا دیتے ہیں ۔جتنے اولیاء اور انبیاء اور بزرگ لوگ گذرے ہیں انہوں نے خدا کی راہ میں جب بڑے بڑے مجاہدات کئے تو آخر خدا تعالیٰ نے اپنے دروازے ان پر کھول دئیے ۔لیکن وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی اس صفت کو نہیں مانتے ۔عموماً انکا یہی مقولہ ہوتا ہے کہ میاں ہماری کوششوں میں کیا پڑا ہے جو کچھ تقدیر میں پہلے روز سے لکھا ہے وہ تو ہو کر رہے گا ۔ ہماری محنتوں کی کوئی ضرورت نہیں کچھ ہونا ہے وہ آپ ہی ہو جائے گا ۔ اور شاید چوروں اور ڈاکوؤں اور دیگر بد معاشوں کا اندر ہی اندر یہی مذہب ہوتا ہوگا ۔