ہوتے جن کو قرآن شریف میں منافق کہا گیا ہے۔اس لئے جب تک کوئی شخص پورے طور پر قرآن مجید پر عمل نہیں کرتا تب تک وہ پور ہ پورا اسلام میں بھی داخل نہیں ہوتا ۔
قرآن کریم کے فضا ئل
قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جو اس وقت دنیا میں آئی تھی جب کہ بڑے بڑے فساد پھیلے ہوئے تھے اور بہت سی اعتقادی اور عملی غلطیاں رائج ہو گئی تھیں اور تقریباً سب کے سب لوگ بد اعمالیوں اور بد عقیدگیوں میں گرفتا تھے ۔ اسی کی طرف اللہ جلشانہ قرآن مجید میں اشارہ فرماتا ہے ۔ ظَھَرَالفَسادُفی البَرِّ وَالبَحرِ ( الرّومہ : ۴۲) یعنی تما م لوگ کیا ہل کتاب اور کیا دوسر ے سب کے سب بد عقیدگیوں میں مبتلا تھے اور دنیا میں فساد عظیم بر پا تھا ۔غرض ایسے تمام زمانہ میں خدا تعالیٰ نے تمام عقا ئد باطلہ کی تردید کے قرآن مجید جیسی کامل کتاب ہماری ہدایت کے لئے بھیجی جس میں گل مذاہب باطلہ کا رد موجود ہے ۔
سورہ فاتحہ کی فضیلت
اور خا ص کی سورہ فاتحہ میں جو پنج وقت ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے اشارہ کے طور پر گل عقائد کا ذکر ہے جیسے فرمایا اَلحمدُ للّٰہ رَبَّ العَالَمینَ یعنی ساری خوبیاں اس خدا کے لئے سزا وار ہیں جو سارے جہانوں کو پیدا کرنے ولا ہے الَرحمن وہ بغیر اعمال کے پیدا کرنے والا ہے اور بغیر کسی عمل کے عنایت کرنے والا ہے ۔ آلرَّحیم اعمال کا پھل دینے والا مَا لکِ یَوم الدِّینِ جزا سزا کے دن کا مالک ۔ان چار صفتوں میں کل دنیا کے فرقوں کا بیان کیا گیا ہے ۔
ٓآریوں کا رد
بعض لوگ اس بات سے منکر ہیں کہ خدا ہی تما م جہانوں کا پیدا کرنے والا ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ جیو یعنی ارواح اور پر مانو یعنی ذرا ت خو د بخود ہیں اور جیسے پر میشر آپ ہی آپ چلا آتا ہے ویسے ہی وہ بھی آپ ہی آپ چلے آتے ہیں اور ارواح اور اُن کی کل طا قتیں گن اور خواص جن پر دفتروں کے دفتر لکھے گئے خود بخود ہیں اور با وجود اس کے کہ ان میں قوت اتصال اور قوت انفصال خو د بخود پائی جاتی ہے وہ آپس میں میل ملاپ کرنے کے لئے ایک پر میشر کے محتاج ہیں ۔غرض یہ وہ فرقہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے رَبُّ العَالمینَ کہہ کر اشارہ کیا ہے ۔
سنا تن دھرم کے عقائد کی تردید
دوسرا فرقہ وہ ہے جس کی طرف آلرَّحمنَ کے لفظ میں اشارہ ہے اور یہ فرقہ سناتن دھرم والون کا ہے گو وہ مانتے ہیں کہ پر میشر سے ہی سب کچھ نکلا ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ خدا کا فضل کوئی چیز نہیں وہ کرموں کا ہی پھل دیتا ہے ۔ یہاں تک کہ اگر کوئی مر دبنا ہے تو وہ بھی اپنے اعمال سے اور اگر کوئی عورت بنی ہے تو وہ بھی اپنے اعمال