بلا تاریخ۲؎:
کامل تعلیم کے اوصاف:۔
ایک فرقۂ مذہبی کا ذکر آیا کہ وہ صرف چند باتوں کے ترک پر زور دیتے ہیں اور بس فرمایا:۔
یہ تعلیم ناقص ہے۔ صرف ترک سے وصول نہیں ہوتا کیونکہ ترک مستلزم ِ وصول نہیں۔ اس کی مثال اس طرح سے ہے کہ ایک شخص نے لاہور جانا ہے اور گورداسپور نہیں جانا۔ صرف اتنے سے کہ وہ گورداسپور نہیں گیا یہ امر حاصل نہیں ہو سکتا کہ وہ لاہور پہنچ گیا ہے ۔ ترک معاصی اور شئے ہے اور نیکیوں کا حصول اور قرب الٰہی دوسری شئے ہے ۔ عیسائیوں نے بھی اس معاملہ میں بڑا دھوکا کھایا ہے اور اسی واسطے انہوں نے کفارہ کا غلط مسئلہ ایجاد کیا ہے کہ یسوع کے پھانسی ملنے سے ہمارے گناہ دور ہوگئے ۔ اول تو یہ بات ہی غلط ہے کہ ایک شخص کا پھانسی ملنا سب کے گناہ دور کر دے ۔ دوم اگر گناہ دور بھی ہو جاویں تو صرف گناہ کا موجود نہ ہونا کوئی خوبی کی بات نہیں ہے ۔ بہت کیڑے مکوڑے اور بھیڑ بکریاں دُنیا میں موجود ہیں جن کے ذمہ کوئی گناہ نہیں لیکن وہ خدا تعالیٰ کے مقربوں میں سے نہیں شمار ہو سکتے اور ایسا ہی کثرت سے اس قسم کے ابلہ اور سادہ لوح لوگ موجود ہیں جو کوئی گناہ نہیں کرتے نہ چوری نہ زنا، نہ جھوٹ ، نہ بدکاری ، نہ خیانت ، لیکن ان گناہوں کے نہ کرنے کے سبب وہ مقربانِ الٰہی میں شمار نہیں ہو سکتے۔ انسان کی خوبی اس میں ہے کہ وہ نیکیاں اختیار کرے اور خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے کام کرے اور معرفتِ الٰہی کے مدارج حاصل کرے اور روحانیت میں ترقی کرے اور ان لوگوں میں شامل ہو جاوے جو بڑے بڑے انعام حاصل کرتے ہیں۔ اس کے واسطے قرآنِ شریف میں دونو باتوں کی تعلیم دی گئی ہے ۔ ایک ترک گناہ اور دوم حصول قربِ الٰہی ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ابرار کی دو صفتیں ہیں ایک یہ کہ وہ کافوری شربت پیتے ہیں جس سے گناہوں کے جوش ٹھنڈے ہو جاتے ہیں اور پھر زنجیلی شربت پیتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں مشکل گھاٹیوں کو طے کرتے ہیں۔ وہ آیت کریمہ اس طرح سے ہے ۔
اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ کَانَ مِزَاجُھَا کَافُوْرًا۔ عَیْنًا یَّشْرَبُ بِھَا عِبَادُ اللّٰہِ یُفَجِّرُوْنَھَا تَفْجِیْرًا۔ (الدھر : ۶۔۷)
پھر فرمایا :
وَیُسْقَوْنَ فِیْھَا کَاْسًا کَانَ مِزَاجُھَا زَنْجِیْلًا۔ ( الدھر:۱۸)