کرتا ہے ۔لیکن تم لو جانتے ہو کہ ہم پر طرح طرح کے جھوٹے الزام لگائے گئے ۔مقدمے کئے گئے ۔کچہریوں میں ہمیں بد نام اور بے عزت کرنے کی کو ششیں کی گئیں ۔قتل کے مقدمے واتر کئے گئے ۔قتل کے مقدمہ میں ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے جس کی پیشی میں یہ مقدمہ تھا پوری طرح سے تحقیقات کر کے آخر مجھے کہا میں آپ کو مبارکبا دیتا ہوں کہ آپ بری ہیں ۔ اور اگر آپ چاہیں تو ان پر نالش کر کے سزا دلا سکتے ہیں ۔
اب بتلاؤ کہ اگر خدا ہمارے ساتھ نہ ہوتا تو اس قسم کی فتح اور نصرت ہمیں حا صل ہو سکتی تھی ؟ اس خو ن کے مقدمہ میں مولوی محمد حسین نے بھی گواہی دی تھی ۔۱؎ لیکن میں نے پہلے ہی سے کہہ دیا تھا کہ میں بری کیا جاؤں گا ۔اب بتلاؤکہ ان مقدموں سے ان لوگوں کو کیا حاصل ہوا ۔ بجز اس کے کہ ایک اور نشان ظاہر ہو گیا ۔
یا د رکھو کہ ایک مفتری اور کذاب کا کام بھی نہیں چلتا اور اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مدد اور نصرت کبھی نصیب نہیں ہوتی ۔کیونکہ اگر مفتری کا کام بھی اسی طرح سے دن بدن ترقی کرتا جاوے تو پھر اس طرح سے تو خدا کے وجود میں بھی شک پڑھاجاوے اور خدا کی خدائی میں اندھیر پڑ جاوے ۔جب سے دنیا پیدا ہوئی عا دت اللہ اسی طرح سے ہے کہ ایک جہان ان کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جا تا ہے اور جس سے کوئی مسافر چلتا ہے تو کتے اس کے ارد گرد جمع ہو کر بھونکتے اور شور مچاتے ہیں اسی طرح سے جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر آتا ہے وہ چونکہ ان لوگوں میں سے نہیں ہوتا اس لئے دوسرے لوگ کتوں کی طرح اس پر پڑتے ہیں اور مخالفت کا شور مچاتے اور دکھ دینے کی کو ششیں کرتے ہیں ۔لیکن آخر خدا تعالیٰ ایک نظر میں ان سب کو ہلاک کر دیتا ہے ۔
زبانی اسلام کافی نہیں
اب یہ بھی سن لو کہ وہ بڑا ہی خوش قسمت انسان ہے جو اسلام جیسے پاک مذہب میں داخل ہے لیکن صرف زبان سے اسلام اسلام کہنے سے کچھ نہیں بنتا جب تک کہ سچے دل سے انسان اس پر کار بند نہ ہو جاوے ۔اکثر لوگ اس قسم کے بھی ہوتے ہیں جن کی نسبت قرآن شریف میں لکھا ہے ۔وَاذَ ا لَقُو الّذینَ اٰمنوُ اقَا لُوا اٰمنَّا وَاذَا خَلوااِلٰٰی شَیَاطِیھِم قَالُوآ اِنَّا مَعَکُم اِنَّمَا نَحنُّ مُستھزِئُونَ( البقرۃ : ۱۵ ) یعنی جب وہ مسلمانوں کے پا س جاتے ہیں تو کہہ دتیے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور جب وہ دوسروں کے پا س جاتے ہیں تو کہہ دتیے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور یہ وہ لوگ