اور پھر ۱؎ عجیب بات یہ ہے کہ ان کی مخالفت اور دشمنی کی با بت بھی خدا تعالیٰ نے پہلے ہی سے اطلاع دی تھی بلکہ اسی کتاب میں ایک یہ الہام بھی درج ہے ۔
یَعصمُکَ اللّٰہُ من عندہِ وَان لَّم یعصمکَ النَّاسُ ص ۵۱۰ )
یعنی اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کر ے گا اور شریروں کی شرارتوں اور دشمنوں کے منصوبوں سے وہ خود تجھے محفوظ رکھے گا اور اگرچہ لو گ تیری حفاظت اور مدد نہ کریں گے مگر خدا ان سب الزاموں اور بہتانوں سے جو شر یر لوگ تھے پر لگائیں گے تیرے معصوم ہونا ثابت کر دیگا ۔اب دیکھو یہ کیسی عظیم الشان پیشگوئی ہے جو پوری ہوئی آخر سچائی کی جستجو کرنے والے کو ماننا ہی پڑیگا اور جو بے ایمان ہے اس کا ہم کیا کریں ۔کیونکہ جو سچا ہی نہیں اس کا مذہب بھی کچھ نہیں کتنا بڑا معجزہ ہے کہ یہ سب مخالف پورا زور لگا لیں اور جو کچھ کر سکیں کریں ۔ مگر ہم اپنے وعدوں کو پورا کریں گے ۔
لیکھرام کی ہلاکت کا نشان
ایسا ہی ایک پنڈت لیکھرام تھا وہ قادیان میں آیا اور دو ماہ کے قریب یہا ں رہا ۔ یہاں کے لوگوں نے اُسے بہکایا اور میری مخالفت پر اُسے امادہ کیا ۔ آخر اُس نے مباہلہ کے طور پر ایک دعا لکھی اور اس میں میرا نام اور اپنا نام لکھ کر اپنے پر میشر سے نہایت تضرع اور ابتہال کے ساتھ پر ارتھنا کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے پرمیشر اُسے ہلاک کر دے اور اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ سچے ویدوں کی رشی منی بھی سچے اور (نعوذ باللہ ) ہمارے نبی کریم جھوٹے اور ہمارا قرآن شریف جھوٹا ہے ۔ غرض اسی قسم کی با تیں لکھ کر اس نے اپنے پر میشر سے فیصلہ چاہا اور بہت دعائیں کیَں۔ بہتر چلایا اور بہت ناک رگڑی ۔ادھر سے چھ برس کی پشگوئی کی گئی ۔مگر وہ اپنی شوخی کے سبب سے پانچ برس میں ہی مر گیا اور مرا بھی اسی طرح جس طرح پیشگوئی میں لکھا تھا یعنی عید کے دوسرے دن چھری سے قتل کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تا ئیدات
غرض میرے پاس اس قدر نشان ہیں کہ ان کے بیان کرنے کے لئے کافی نہیں میرے پاس تو یہی نشان کافی ہے کہ اتنے آدمی جو یہاں آتے ہیں ان میں سے ہر ایک آدمی ایک ایک نشان ہے اور خدا تعالیٰ نے ان سب کی پہلے سے خبر دے رکھی ہے اور یہ سب نصرتیں اور تا ئیدیں جو ہمارے شامل حال ہیں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے انکا ہمارے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے ۔ لیکن جو جھوٹا اور مفتری علی اللہ ہوتا ہے اس کو خدا کبھی نصرت نہیں دیتا ۔بلکہ اُلٹا ہلاک