ہٹ دھرم اور ضدی نہ ہو گیا ہوتو اُسے میر ا دعوی بہ صورت ماننا پڑتا ہے ۔میری اس تنہائی اور گمنامی کے زمانے کے یہاں کے ہندو بھی گواہ ہیں اور وہ بتا سکتے ہیں کہ میں اس وقت اکیلا تھا اور ارد گر د کے لوگ بھی مجھے نہ جانتے تھے ۔ہاں اگر کوئی ہندو اس سے انکار کرے تو اس کو چاہیے کہ میرے سامنے آکر جھوٹ بولے کہ اس وقت بھی اس طرح سے لوگ آیا کرتے تھے اور اگر وہ کہیں کہ یہ اتفاقی بات ہے تو پھر کسی اور جگہ سے اس کی نظیر بتا دیں اور دنیا بھر میں اس کی نظیر بتا دیں اور دنیا بھر میں اس کا پتہ دیں کہ ایک شخص پچیس برس پہلے گمنامی کی حالت میں ہو اور اس وقت اس نے پیشگوئی کی ہو کہ میر ے پاس فوج در فوج لوگ آویں گے اور ہزار ہا روپوں کے مال ومتاع اور تحفے تحائف لے کر آویں گے اور میں خدا تعالی کی طرف سے ہر طرح سے مدد دیا جاؤں گا اور پھر اس طرح سے وہ پیشگوئی پوری بھی ہو گئی ہو ۔ اگر یہ دیکھا دیویں تو ہم مان لیں گے ۔ یونہی بہانہ جوئیاں تو ہم قبول نہیں کریں گے ۔کیونکہ اس طرح سے تو کسی نبی کا کوئی بھی معجزہ قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ان کو چاہیے کہ کسی کذاب کی نظیر پیش کریں کہ اس نے پچیس بر س پہلے اس طرح اقتداری پیشگوئی کی ہو اور پھر وہ پوری بھی ہو گئی ہو ۔ اگر یہ ایسا کر دیں تو ہم تیار ہیں کہ انہیں قبول کر لیں ۔اگر کوئی کہے کہ خیر خوابیں آیا ہی کرتی ہیں اور ان میں سے بعض پوری بھی ہوا ہی کرتی ہیں تو اس کا جواب ہے کہ خوابیں تو اکثر چوہڑوں اور چماروں کو بھی آتی ہیں اور ان سب سے پوری ہو جاتی ہیں بلکہ کنچنیاں بھی عموماً کہا کرتی ہیں کہ ہماری فلاں خواب پوری نکلی ۔اور ہمارے گھر میں ایک چوہڑی تھی جو اکثر اپنی خوابیں سناتی تھی اور وہ سچی بھی ہوتی تھیں لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ان میں یہ قدرت اور نصرت کہا ںہوتی ہے اس طرح کی فتح اور مدد اور دشمنوں کا ادبار اور اپنا اقبال دشمنوں کی ذلت اور اپنی عزت یہ تو صرف انبیاء کے ہی سپر د ہے ۔دوسرے کا تو اس میں کچھ حصہ ہی نہیں یہ تو خدا تعالیٰ کا فعل ہے جو یہ خوابیں تو نہیں ۔ براہین احمدیہ وہ کتاب ہے کہ جس کے کل مذہبوں والے گواہ ہیں اور ہر ایک ملک میں جس کی اشاعت ہو چکی ہے اور یہاں کے ہندو بھی جس کے گواہ ہیں ۔مثلاً لالہ ملاوامل اور شرمیت جو اسی قادیان کے رہنے والے ہیں وہ پہچان سکتے ہیں کہ یہی باتیں تھیں جو اس وقت لکھی گئی تھیں ۔ اب دیکھ لو کہ کیا معجزات اس سے بڑھ کر ہو تے ہیں ۔یہی تو معجزہ ہے کہ پیشگوئی کے بعد ہندو ۔آریہ ۔عیسائی ۔مسلمان نیچری ۔وہابی اپنے بیگانے سب کے سب ہمارے دشمن ہو گئے تھے ہمارے تباہ کرنے میں پورے زور لگائے گئے اور ایسی ایسی حد بندیاں کی گئی تھیں کہ جو ہمیں اسلام علیکم کہے وہ بھی کافر اور جو خوش خلقی سے پیش آوے وہ بھی کافر اور ہمارے ساتھ وہ باتیں کر لینی روا رکھی گئیں جن کو شریف طبع سن بھی نہیں سکتے ۔راستوں میں بیٹھ بیٹھ کر لوگوں کو یہاں آنے سے روکا گیا اور طرح طرح کی باتیں پیش کر کے لوگوں کو ور غلایا گیا ۔ مگر آخر وہی ہوا جو خدا تعالی نے پہلے ہی سے فرمایا ہوا تھا کہ لاکھوں لوگ تیرے پاس آویں گے اور ہزار ہا روپے اور تحفے تحائف لائیں گے ۔