۲۷ دسمبر ۱۹۰۷؁ء بروز جمعہ جلسہ سالانہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصّلٰوۃ والسلام کی تقریر بے نظیر ایک عظیم الشان معجزہ دیکھو اول اللہ جلشانہ کا شکر ہے کہ آپ آپ صاحبو ں کے دلوں کو اس نے ہدایت دی اور باوجود اس بات کے کہ ہزاروں مولوی ہندوستان اور پنچاب کے تکذیب میں لگے رہے اور ہمیں دجال اور کافر کہتے رہے آپ کو ہمارے سلسلہ میں داخل ہونے کا موقع دیا یہ بھی اللہ جل شانہ کا بڑا معجزہ ہے کہ باوجود اس قدر تکذیب اور تکفیر کے اور ہمارے مخالفوں کی دن رات کی سر توڑ کو ششوں کے یہ جماعت بڑھتی جاتی ہے ۔ میرے خیال میں اس وقت ہماری جماعت چار لاکھ سے بھی زیادہ ہو گی اور یہ بڑا معجزہ ہے کہ ہمارے مخالف دن رات کو شش کر رہے ہیں اور جانکا ہی سے طرح طرح کے منصوبے سو چ رہے ہیں اور سلسلہ کو بند کرنے کے لئے پورا زور لگا رہے ہیں اور جا نکاہی سے طرح طرح کے منصوبے سو چ رہے ہیں اور سلسلہ کو بند کرنے کے لیے پورا زور لگا رہے ہیں مگر خدا ہماری جماعت کو بڑھاتا جاتا ہے ۔ جانتے ہو کہ اس میں کیا حکمت ہے ؟ حکمت اس میں یہ کہ اللہ جل شانہ جس کو مبعوث کرتا ہے اور جو واقعی طور پر خدا کی طرف سے ہوتا ہے ۔ وہ روز بروز ترقی کر تا اور بڑھتا ہے اور اس سلسلہ دن بدن رونق پکڑتا جاتا ہے اور اس کے روکنے والا دن بدن تباہ اور ذلیل ہوتا جاتا ہے اور اس کے مخالف اور مکذب آخر کار پڑی حسرت سے مرتے ہیں جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ ہماری مخالف کرنے والے اور ہمارے سلسلہ کو روکنے والے بیسوں مر چکے ہیں ۔ خدا تعالیٰ کے ارادہ کو جو در حقیقت اس کی طرف سے ہے کوئی بھی روک نہیں سکتا اور خواہ کوئی کتنی ہی کو ششیں کرے اور ہزاروں منصوبے سوچے مگر جس سلسلہ کو خد ا شروع کرتا ہے اور جس کو وہ بڑھانا چاہتا ہے اس کو کوئی نہیں روک سکتا کیونکہ اگر ان کی کو ششوں سے وہ سلسلہ رک جائے تو ماننا پڑے گا کہ روکنے والا خدا پر غالب آگیا ۔حالانکہ خدا پر کوئی غالب نہیں آسکتا ۔ پچیس بر س پہلے کی ایک پیشگوئی کا ظہور پھر ایک یہ معجزہ ہے کہ ان لوگوں کی بابت جو ہزاروں لاکھوں ہمارے پاس آتے رہتے ہیں اللہ جل شانہ نے براہین احمدیہ میں پہلے ہی سے خبر دے رکھی تھی اور یہ وہ کتاب ہے جو عرب فارس انگلستان اور دیگر ممالک میں پچیس برس کا عرصہ گذرا شائع ہو چکی ہے ۔اس میں بہت سے اسی زمانہ کے الہام بھی درج ہیں۔اور یہ ایک ایسی بد یہی بات ہے جس سے کوئی یہودی عیسائی ۔مسلمان برہمو آریہ انکار نہیں کر سکتا ۔ اور اس کتاب