بلا تا ریخ۲؎
بعض فقہی مسائل کی تشریح
ایک صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں خط لکاھ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ نماز کس طرح پڑھنی چاہئیے ؟ اور تراویج کے متعلق کیا حکم ہے اور سفر میں نماز کا کیا حکم ہے ؟ اور کچھ اپنے ذاتی معاملا ت کے متعلق دعا کرائی تھی اس کے جواب میں حضرت نے تحریر فرمایا :۔
اسلام علیکُم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نماز وہی ہے جو پڑھی جاتی ہے ۔ صر ف تضرع اور انکسار سے نماز ادا کرنی چاہئے اور دین ودنیا کے لئے نماز میں بہت دعا کرنی چاہئیے خواہ اپنی زبان میں دعا کر لیں ۔
اور تمہا رے قرضہ کے لئے انشاء اللہ دعا کروں گا۔ یا ر دلاتے رہیں ۔لڑکے کے لئے بھی دعا کرونگا ۔
سفر میں دو گانہ سنت ہے ۔تروایج بھی سنت ہے پڑھا کریں اور کبھی گھر میں تہنائی میں پڑھ لیں کیونکہ تراویج دراصل تہجد ہے کوئی نئی نماز نہیں ۔ وتر جس طرح پڑھتے ہو ۔بیشک پڑھو ۔
عالم آخرت کے اجسام کیسے ہونگے
ایک دوست نے حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ عالم آخرت میں کیا یہی اجسام ومکانا ت وغیرہ جو یہاں ہیں ہوں گے یا اور ؟
حضرت نے فرمایا کہ :۔
خدا تعالی نے جو کچھ مجھے قرآن شریف کا علم دیا ہے وہ یہی ہے کہ و ہ عالم اس عالم سے بالکل علیحدہ ہے ۔ مَالاَ عَینٌ رَآت وَلاَ اُذُنٌ سمعَت وَلاَ خطَرَ عَلے قَلبِ بَشرِِ ( الحدیث ) ہمارا اعتقاد یہی ہے کہ وہ دوسرا عالم بالکل اس عالم سے الگ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے ۔ بہشت کی تمام چیزیں ایسی ہوں گی کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی دل میں گذریں بلکہ حشر جساد میں بھی یہی ہمارا مذہب ہے کہ وہ عالم بھی ایک دوسرا عالم ہے ۔اجسام ہوں گے مگر وہ نورانی اجسام ہوں گے نہ یہ تا ریک اور زوال پذیر اجسام اس جگہ کی حویلیاں اور مکانات جو اینٹ پتھر کی ہیں بہشت میں نہیں جائیں گی ۔ واللہ اعلم ۱؎