کوئی سچا مسلمان برادشت کر سکتا ہے جو اپنے پاک اور بزرگ نبیوں کی نسبت ان گالیوں کو سنے اور پھر صلح کرے ۔ ہر گز نہیں پس ان لوگوں کے ساتھ صلح کرنا ایسا ہی مضر ہے جیسا کہ کاٹنے والے زہر یلے سانپ کو اپنی استین میں رکھ لینا ۔یہ قوم سخت سیاہ دل قوم ہے جو تمام پیغمبروں کو جو دنیا میں بڑی بڑی اصلاحیں کر گئے مفتری اور کذاب سمجھتے ہیں ۔نہ حضرت موسیٰ ؑ ان کی زبان سے بچ سکے نہ حضرت عیسیٰ ؑ اور نہ ہمارے سید ومولا جناب خاتم الانبیاء ﷺ جنہوں نے سب سے زیادہ دنیا میں اصلاح کی جن کے زندہ کئے ہوئے مردے اب تک زندہ ہیں ‘‘۔ اس کے بعد جب کہ اخباروں میں بہت شور مچا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان صلح ہونی چاہئیے ۔تب حضرت صاحب نے لیکچر لاہور میں صلح کی ایک تجویز پیش کی جس کے الفاظ یہ تھے ۔ ’’ ہم اس بات کا اعلان کرنا اور اپنے اس اقرار کو تمام دنیا میں شائع کرنا اپنی ایک سعادت سمجھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام اور دوسرے نبی سب کے سب پاک اور بزرگ اور خدا کے برگزیدہ تھے ۔ایسا ہی خدا نے جن بزرگوں کے ذریعہ سے پاک ہدایتیں آریہ ورت میں نا زل کیں اور نیز بعد میں آنے والے جو آریوں کے مقدس بزرگ تھے جیسا کہ راجہ رامچند راور کرشن یہ سب کے سب مقدس لوگ تھے اور ان میں سے تھے جن پر خدا کا فضل ہوتا ہے ۔ دیکھو یہ کیسی پیاری تعلیم ہے جو دنیا میں صلح کی بنیاد ڈالتی ہے اور تمام قوموں کو ایک قوم کی طرح بنانا چاہتی ہے یعنی یہ کہ دوسری قوموں کے بزرگوں کو عزت سے یاد رکرو ۔ اور اس بات کو کون نہیں جانتا کہ سخت دشمنی کی جڑ ان نبیوں اور رسولوں کی تحقیر ہے جن کو ہر ایک قوم کے کروڑ ہا انسانوں نے قبول کر لیا ۔ ایک شخص جو کسی کے باپ کو گندی گالیاں دیتا ہے اور پھر چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا اس سے خوش ہو ۔ یہ کیونکر ہو سکتا ہے ؟ غرض ہم اس اصول کو ہاتھ میں کر آپ کی خدمت میں حا ضر ہوئے ہیں کہ آپ گواہ رہیں جو ہم نے مذکورہ بالا طریق کے ساتھ آپ کے بزرگوں کو مان لیا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے تھے اور آپ کی صلح پسند طبیعت سے ہم اُمید وار ہیں کہ آپ بھی ایسا ہی مان لیں یعنی صرف یہ اقرار کر لیں کہ آنحضرت ﷺ خدا تعالی کے سچے رسول اور صادق ہیں ۔ جس دلیل کو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے وہ نہایت روشن ارو کھلی کھلی دلیل ہے اور اگر اس طریق سے صلح نہ ہو تو آپ یاد رکھیں کہ کبھی صلح نہ ہو گی بلکہ روز بروز کینے بڑھتے جاویں گے ۱؎