بھی وہی مثال ہے جو دن اور رات کے آگے پیچھے آنے کی ہے ۱؎ ( منقول ازرسالہ تشحیذالا ذہان دسمبر ۱۹۰۷؁ء ) ۲۴دسمبر ۱۹۰۷؁ء ( صبح بوقت سیر ) آریوں کے ساتھ مسلمانوں کی صلح کی تجاویز فرمایا :۔ سچا مسلمان تو وہ ہے جو اپنے دل میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ ایسی محبت رکھتا ہے اگر کوئی آنحضرت ﷺ کی ہتک میں ایک لفظ بھی بولے یا اشارہ بھی کرے تو وہ مرنے مارنے پر تیار ہو جاتا ہے ۔ ہم نے آریوں کے اخباروں میں ایسے مضامین پڑھ کر کہ وہ مسلمانوں سے صلح چاہتے ہیں صلح کی ایک تجویز اپنے مضمون میں پیش کی تھی مگر افسوس ہے کہ انہوں نے قدر نہ کی ۔ نوٹ ازایڈیٹر صاحب بدر ۔‘‘ حضرت اقدس نے آریوں کی بد زبانی کو دیکھ کر پہلے ہی ایک مضمون میں فرمایا تھا کہ ان لوگوں کے ساتھ ہماری صلح کس طرح ہو سکتی ہے ۔چنانچہ وہ الفاظ کتاب ‘‘ قادیان کے آریہ اور ہم میں اس طرح چھپے تھے ۔ ’’ ہماری شریعت صلح کا پیغام ان کو (آریوں کو ) دیتی ہے اور ان کے ناپاک اعتقاد جنگ کی تحریک کر کے ہماری طرف تیر چلا رہے ہیں ۔ہم کہتے ہیں کہ ہندوؤں کے بزرگوں کا مکار ا اور جھوٹا مت کہو مگر یہ کہو کہ ہزار برسوں کے گذرنے کے بعد یہ لوگ اصل مذہب کو بھول گئے مگر بمقابل ہمارے یہ ناپاک طبع لوگ ہمارے برگزیدہ نبیوں کو گندی گالیاں دیتے ہیں اور ان لوگوں سے بہتر سناتن دھرم کے اکثر نیک اخلاق لوگ ہیں جو ہر ایک نبی کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے اور فروتنی سے سر جھکا تے ہیں ۔میری دانست میں اگر جنگلوں کے درندے اور بھیڑئیے ہم سے صلح کر لیں اور شرارت چھوڑ دیں تو یہ ممکن ہے مگر یہ خیال کرنا کہ ایسے اعتقاد کے لو گ کبھی دل کی صفائی سے اہل اسلام سے صلح کریں گے سر اسر باطل ہے بلکہ ان کا ان عقیدوں کے ساتھ مسلمانوں سے سچی صلح کرنا ہزاروں محا لوں سے بڑھ کر محال ہے ۔ کیا